اقلیتی خود روزگار اسکیم 13475 درخواستیں وصول

حیدرآباد۔/11فبروری، ( سیاست نیوز) اقلیتی طبقہ کے بیروزگار افراد کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی خود روزگار اسکیم کے تحت درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ ختم ہوچکی ہے۔ ریاست بھر سے 13,475 امیدواروں نے آن لائن درخواستیں داخل کیں۔ آن لائن درخواستوں کے ادخال میں ضلع اننت پور سرفہرست رہا جہاں ضلع کو الاٹ کردہ نشانہ سے زیادہ درخواستیں آن لائن داخل کی گئی ہیں۔ حیدرآباد میں 1104 درخواستیں آن لائن داخل کی گئیں جبکہ 9217 درخواستیں تحریری طور پر داخل کی گئی ہیں جنہیں اقلیتی فینانس کارپوریشن کا عملہ آن لائن کردے گا۔ ان درخواستوں کے آن لائن ہونے کے بعد حیدرآباد سرفہرست ہوجائے گا جہاں کی درخواستوں کی تعداد 11ہزار سے زاید ہوجائے گی۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ اننت پور کیلئے 1470 درخواستوں کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا جن میں 278 درخواستوں کی سابقہ اسکیم کے تحت یکسوئی کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ درخواستوں کی قبولیت اور بینکوں کی جانب سے قرض کی اجرائی کیلئے ضروری ہے کہ امیدوار راشن کارڈ اور انکم سرٹیفکیٹ داخل کرے۔ جن امیدواروں نے راشن کارڈ داخل نہیں کئے ہیں ان کی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا تاہم ایسے امیدواروں کو رعایت دیئے جانے کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام درخواستوں کی بینکوں کے لحاظ سے علحدہ فہرست تیار کی گئی ہے۔ حیدرآباد میں سب سے زیادہ درخواستیں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی برانچس کیلئے داخل کی گئی ہیں جبکہ آندھرا بینک دوسرے نمبر پر ہے۔ حیدرآباد میں جملہ 29 بینکوں کیلئے امیدواروں نے درخواستیں داخل کیں۔ حکومت نے اس اسکیم کے تحت100کروڑ روپئے مختص کئے اور استفادہ کنندگان کا نشانہ 26620 مقرر کیا گیا۔ سابقہ اسکیم کے تحت 4178 امیدواروں کو 11کروڑ13لاکھ روپئے جاری کردیئے گئے۔ 8ہزار سے زاید درخواستیں سابقہ اسکیم کے تحت زیر التواء ہیں جنہیں نئی اسکیم میں شامل کیا جائے گا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ اگر اہل امیدواروں کی تعداد مقررہ بجٹ سے زاید ہو تو حکومت سے زاید بجٹ کیلئے نمائندگی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ درخواستیں علحدہ علحدہ بینکس کو روانہ کی جارہی ہیں جو قرض کی اجرائی کے سلسلہ میں اپنے قواعد کی تکمیل کریں گے۔ بینک کی جانب سے قرض کی اجرائی سے اتفاق کے بعد اقلیتی فینانس کارپوریشن سبسیڈی کی رقم جاری کرے گا جوکہ بینک قرض کی 50فیصد ہوگی۔ انہوں نے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کے ذریعہ حکومت سے خواہش کی ہے کہ اس اسکیم سے استفادہ کی تاریخ میں کم از کم ایک ہفتہ کی توسیع دی جائے۔ وزیر اقلیتی بہبود احمد اللہ نے اس مسئلہ پر وزیر سماجی بھلائی اور وزیر بہبودی پسماندہ طبقات سے بھی نمائندگی کی ہے۔