اقلیتی بہبود کے عوام سے وعدے، عمل آوری پر وائیٹ پیپر کا مطالبہ

آئندہ چارماہ 800 کروڑ روپئے کس طرح خرچ کیا جائے گا ، محمد علی شبیر کا استفسار
حیدرآباد۔/22نومبر، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتی بہبود کے سلسلہ میں عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے ان پر عمل آوری کے سلسلہ میں وائیٹ پیپر جاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل کے جاریہ بجٹ سیشن میں ابھی تک اقلیتی بہبود پر مباحث نہیں ہوسکے اور حکومت نے بجٹ میں1030کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے اقلیتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اس بات کی ابھی تک وضاحت نہیں کی گئی کہ مالیاتی سال کے باقی چار ماہ میں مکمل بجٹ کس طرح خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جون سے نومبر تک تلنگانہ حکومت نے اقلیتی بہبود کے مختلف اداروں کو جو بجٹ جاری کیا ہے وہ 200کروڑ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ چار ماہ میں 800کروڑ روپئے کب جاری ہوں گے اور انہیں کس طرح خرچ کیا جاسکے گا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں سے جو اہم وعدے کئے تھے ان کا بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ مسلمانوںکو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ پر حکومت آج تک خاموش ہے۔ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر کُل جماعتی اجلاس طلب کرنے اور تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک کمیشن قائم نہیں کیا گیا۔ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی ہوگی کہ وہ کس طرح مسلمانوں اور درج فہرست اقوام کو 12فیصد تحفظات فراہم کرے گی۔ محمد علی شبیر نے اقلیتی بہبود کے اُمور پر اسمبلی اور کونسل میں خصوصی مباحث کی مانگ کی اور کہا کہ بجٹ پر مباحث کے دوران اقلیتی بہبود پر سیر حاصل مباحث ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک اقلیتی اداروں کو بجٹ جاری نہیں کیا جس کے باعث کئی اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ ہوچکی ہے۔ ’ شادی مبارک‘ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت چار ماہ میں 20ہزار غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد فراہم کرنے کا اعلان کرچکی ہے لیکن بجٹ میں صرف 100کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم سے استفادہ کیلئے حکومت نے جو شرائط مقرر کی ہیں وہ اس قدر سخت اور پیچیدہ ہیں۔کانگریس کے ڈپٹی لیڈر نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی کے بارے میں چیف منسٹرکی جانب سے جائزہ اجلاس طلب کرنے کی مانگ کی اور کہا کہ چیف منسٹر نے آج تک اقلیتی بہبود پر اجلاس طلب نہیں کیا۔ انہوں نے اسمبلی اور کونسل سے تعلق رکھنے والے اقلیتی ارکان کے ساتھ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر حکومت صرف وعدوں کے ذریعہ اقلیتوں کو خوش کرنے کی کوشش کرے گی تو بہت جلد حکومت پر اقلیتوں کا اعتماد متزلزل ہوجائے گا۔