اقلیتی اداروں کے ملازمین میں ڈسپلن کا فقدان

ڈپٹی چیف منسٹر کے دورہ پر وقف بورڈ کے کئی ملازمین غائب، عہدیداروں پر سخت برہمی
حیدرآباد۔17۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کو اقلیتی اداروں میں ڈسپلن کی کمی کا شخصی طور پر مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ آج وہ صبح 11 بجے اچانک وقف بورڈ پہنچے تو اس وقت بیشتر ملازمین غیر حاضر تھے۔ انہوں نے ملازمین کی حاضری سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی لیکن عہدیداروں نے بائیو میٹرک سسٹم کا حوالہ دیتے ہوئے حاضری رجسٹرس کی عدم موجودگی کا بہانہ بنادیا۔ وقف بورڈ کے کئی سیکشنس میں عہدیدار و ملازمین 11 بجے تک بھی کام پر رجوع نہیں ہوئے۔ عہدیداروں نے ڈپٹی چیف منسٹر کو بتایا کہ بیشتر ملازمین سرکاری کام سے باہر گئے ہوئے ہیں لیکن جناب محمود علی نے بائیو میٹرک سسٹم کا آج کی حاضری کا پرنٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ وہ دیگر اقلیتی اداروں کا معائنہ کرتے ہوئے تقریباً تین گھنٹے حج ہاؤز میں موجود رہے لیکن انہیں وقف بورڈ کے ملازمین کی حاضری کا پرنٹ نہیں دیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر جو عہدیداروں کے اس رویہ سے حیرت میں تھے، واپسی سے قبل دوبارہ اس سلسلہ میں ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ شام میں ای میل کے ذریعہ ڈپٹی چیف منسٹر کے دفتر کو حاضری کی تفصیلات سے متعلق شیٹ ای میل کی گئی ۔ بائیو میٹرک سسٹم رائج کرنے کے باوجود بیشتر ملازمین میں ڈسپلن کی کمی باعث حیرت تھی۔ اس تلخ تجربہ کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر نے دیگر اقلیتی اداروں میں ملازمین اور عہدیداروں کی حاضری کے سلسلہ میں بائیو میٹرک سسٹم رائج کرنے کی ہدایت دی۔ حج ہاؤز میں عوام نے ڈپٹی چیف منسٹر سے ملازمین کے رویہ اور غیر حاضری کی شکایت کی۔