اقلیتی اداروں کی خدمات پر اظہار اطمینان

مزید سدھار کی ضرورت پر زور، عہدیداروں سے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کی بات چیت

حیدرآباد۔17۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے آج اچانک حج ہاؤز پہنچ کر اقلیتی اداروں کا معائنہ کیا اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تقریباً تین گھنٹے تک اقلیتی اداروں ، وقف بورڈ ، اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کے دفاتر کا دورہ کیا ہے اور کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے اس اچانک دورے سے عہدیداروں و ملازمین حیرت میں پڑگئے۔ اس دورہ کا مقصد ملازمین کی بروقت حاضری اور عوامی مسائل کی یکسوئی کا جائزہ لینا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے حج ہاؤز پہنچتے ہی ملازمین تیزی سے اپنی اپنی نشستوں پر پہنچ گئے۔ جناب محمود علی نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کئے جارہے اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ کارکردگی کو مزید بہتر بنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو ضروری اسٹاف کے علاوہ پولیس پروٹیکشن فراہم کیا جائے گا تاکہ عہدیدار بہتر طور پر خدمات انجام دے سکے۔ انہوں نے ملازمین کو مشورہ دیا کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے جذبہ کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے ملازمین کی حاضری کے بارے میں معلومات حاصل کی جس پر بتایا گیا کہ بورڈ نے بائیو میٹرک حاضری کا سسٹم متعارف کیا گیا ہے جس کے بعد ملازمین کی بروقت حاضری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب جلال الدین اکبر سے وقف بورڈ کو درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کی اور تیقن دیا کہ حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔ اسپیشل آفیسر نے وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات سے واقف کراتے ہوئے بتایا کہ بورڈ کے پاس 5 کروڑ روپئے موجود ہے اور گزشتہ 57 برسوں میں پہلا موقع ہے جب اس قدر خطیر رقم بورڈ کے ا کاؤنٹ میں موجود ہے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے وقف بورڈ کو 53 کروڑ روپئے بطور گرانٹ مختص کئے ہیں جو بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے۔ سابق میں حکومتوں نے 4 تا 5 کروڑ روپئے الاٹ کئے تھے۔ انہوں نے اسٹاف کے مسائل کی یکسوئی، مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات اور پولیس پروٹیکشن فراہم کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور کے ساتھ کارپوریشن کی جانب سے اسکیمات پر عمل اوری کی تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے تیقن دیا کہ حکومت سبسیڈی کی اجرائی کیلئے جلد درکار بجٹ جاری کرے گی۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ سبسیڈی کی اجرائی کیلئے 18 کروڑ روپئے درکار ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کریں گے ۔ انہوں نے اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی اسکیمات پر موثر اور شفافیت کے ساتھ عمل آوری کی ہدایت دی۔ انہوں نے اقلیتی اداروں کے علاوہ دفتر قضاۃ کا بھی دورہ کیا اور وہاں درمیانی افراد کی موجودگی سے متعلق اطلاعات پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقلیتی اداروں کے عہدیداروں اور ملازمین کو مشورہ دیا کہ وہ خدمت کے جذبہ کے تحت کام کریں۔ حکومت مکمل تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے 9 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ کھمم ضلع میں بہت جلد اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر کے سائن بورڈس اور آر ٹی سی بسوں پر اردو کی شمولیت کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی اداروں کی کارکردگی مجموعی طور پر اطمینان بخش ہے تاہم اس میں مزید سدھار کی ضرورت ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ادارے اپنی اسکیمات پر موثر انداز میں عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے حج 2014 ء کیمپ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔