اقلیتی اداروں پر کنٹرول کیلئے تلنگانہ ‘آندھرا حکومتوں میں رسہ کشی

فینانس کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کا تبادلہ روک دیا گیا ‘ تال میل کی کمی‘ اداروں کی عدم تقسیم سے دشواریاں
حیدرآباد۔ 9۔ڈسمبر (سیاست نیوز) اقلیتی اداروں پر کنٹرول کیلئے تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں کے درمیان رسہ کشی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب تلنگانہ حکومت نے آندھراپردیش حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک جی او پر عمل آوری کو روک دیا۔ حکومت آندھراپردیش نے 6 ڈسمبر کو جی او آر ٹی 176 جاری کرتے ہوئے آئی پی ایس عہدیدار شیخ محمد اقبال کو نائب صدرنشین و مینجنگ ڈائرکٹر آندھراپردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن مقرر کیا تھا، وہ کمشنر اقلیتی بہبود آندھراپردیش کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آندھراپردیش حکومت نے پروفیسر ایس اے شکور کی درخواست پر انہیں اس ذمہ داری سے سبکدوش کرتے ہوئے احکامات جاری کئے تھے۔ شیخ محمد اقبال مقررہ پروگرام کے مطابق عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے والے تھے ۔ تاہم سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ احمد ندیم نے مداخلت کرتے ہوئے احکامات پر عمل آوری کو روک دیا اور پروفیسر ایس اے شکور کو کارپوریشن کی تقسیم تک عہدہ پر برقرار رہنے کی ہدایت دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مسئلہ پر دونوں حکومتوں کے سکریٹریز کے درمیان کوئی مشاورت نہیں ہوئی ۔ تاہم احکامات پر عمل آوری کچھ دن کیلئے روک دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی آندھراپردیش اور تلنگانہ میں تقسیم کا عمل آخری مرحلہ میں ہے اور تلنگانہ حکومت چاہتی ہے کہ ادارہ کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستیں اپنے اپنے مینجنگ ڈائرکٹرس کا تقرر کرلیں۔ آندھراپردیش حکومت نے جی او کی اجرائی سے قبل تلنگانہ حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی جس کے باعث یہ مسئلہ تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا اور لمحہ آخر میں شیخ محمد اقبال کے جائزہ لینے کے پروگرام کو ملتوی کرنا پڑا۔ کارپوریشن نے جائزہ حاصل کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھی لیکن سکریٹری تلنگانہ اقلیتی بہبود کی مداخلت پر تقریب کو ٹالنا پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ اندرون 15 یوم ادارہ کی تقسیم کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔ اسی دوران اقلیتی اداروں کی عدم تقسیم کے سبب دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کو کارکردگی کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ بیشتر اقلیتی ادارے ابھی تک تقسیم نہیں کئے گئے اور وہ آندھراپردیش کے نام سے برقرار ہے جس کے باعث آندھراپردیش حکومت ان پر مکمل کنٹرول رکھنا چاہتی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے علاوہ وقف بورڈ اور اردو اکیڈیمی ابھی تک تقسیم نہیں کئے گئے اور وہ آندھراپردیش کے اداروں کے طور پر برقرار ہیں۔ صرف حج کمیٹی کی تقسیم کا عمل مکمل کرلیا گیا تاہم دونوں ریاستوں میں علحدہ علحدہ اگزیکیٹیو آفیسرس کا تقرر نہیں کیا ہے۔ آندھراپردیش حکومت شیخ محمد اقبال کو وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ وہ آندھراپردیش سے متعلق اوقافی امور کی نگرانی کرسکیں۔ وہ سابق میں متحدہ ریاست کیلئے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اداروں پر کنٹرول کے سلسلہ میں دونوں حکومتوں کی مساعی کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس ٹکراؤ کے سبب اداروں کی کارکردگی متاثر ہوگی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اداروں کے باہمی مسائل کی یکسوئی کیلئے دونوں ریاستوں کے اقلیتی بہبود کے سکریٹریز باہم مشاورت کریں۔ دونوں سکریٹریز کے درمیان ابھی تک کوئی مشترکہ اجلاس منعقد نہیں ہوا جس کے باعث کئی مسائل پر الجھن برقرار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے سکریٹری کئی فائلوں کو بغیر کسی فیصلہ کے آندھراپردیش سے رجوع کر رہے ہیں کیونکہ اداروں کی تقسیم کا عمل بھی مکمل نہیں ہوا۔ اسی دوران آندھراپردیش حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی حیثیت سے شیخ محمد اقبال کے تقرر کے احکامات برقرار ہیں اور کچھ دن تک ادارہ کی تقسیم کے سلسلہ میں انتظار کیا جائے گا ۔