اقلیتی اداروں میں ملازمین کے لیے رولز و قواعد پر سختی سے عمل

ترقی و تنزلی کے لیے ریکارڈ بنانے پر توجہ ، پروفیسر ایس اے شکور کا اقدام
حیدرآباد۔/16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی اداروں کی زبوں حالی اور ان کی عدم کارکردگی کے بارے میں ہر شخص واقف ہے لیکن اداروں میں سرکاری قواعد کے فقدان کے سبب ملازمین کی نگرانی اور جوابدہی کا کوئی نظم موجود نہیں۔ اقلیتی اداروں کو اس صورتحال سے نکالنے اور ملازمین کو جوابدہ بنانے کیلئے سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی اور اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے مساعی کی اور اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی میں ملازمین کے سرویس رجسٹرس کی تیاری کا بیڑہ اٹھایا۔ کسی بھی سرکاری ادارہ کے عہدیداروں اور ملازمین کیلئے سرویس رجسٹر انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، ان کی ساری سرویس کا ریکارڈ اس میں درج ہوتا ہے جس کی بنیاد پر ہی ان کی ترقی یا تنزلی کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ 1975ء میں اردو اکیڈیمی کا قیام عمل میں آیا لیکن آج تک کسی نے بھی ملازمین کے سرویس رجسٹر کی تیاری پر توجہ نہیں دی۔ اسی طرح حج کمیٹی کے قیام کے بعد سے ملازمین کا سرویس رجسٹر تیار نہیں کیا گیا لہذا دونوں ادارے کسی رولز اور قواعد کے بغیر کام کررہے تھے۔ دونوں اداروں کے ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے پروفیسر ایس اے شکور نے سرویس رجسٹر کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کی تیاری کا بیڑہ اُٹھایا۔ سرویس رجسٹر میں ملازمین کے تقرر سے لیکر ان کی سبکدوشی تک کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے خاص طور پر تاریخ پیدائش، تعلیمی سرٹیفکیٹس، ملازمت کا ابتدائی عہدہ، وقتاً فوقتاً ترقی اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں کی گئی کارروائی اور اعلیٰ عہدیداروں کے ریمارکس درج ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملازم کا سرویس رجسٹر اس کی خدمات کا آئینہ ہوتا ہے۔ سرویس رجسٹر کی عدم موجودگی کے سبب خود ملازمین کو مراعات اور ترقی کے حصول میں دشواریوںکا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے اس سلسلہ میں ماہرین سے مشاورت کے بعد سرویس رجسٹر تیار کئے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ رجسٹر کی عدم موجودگی کے سبب ملازمین کو کسی بھی قسم کی رعایت کی فراہمی کے سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں کو دشواری کا سامنا تھا۔ اس کے علاوہ ملازمین میں جوابدہی کا کوئی احساس موجود نہیں ہوتا۔ سرویس رجسٹر کی تیاری سے توقع کی جارہی ہے کہ دونوں اداروں کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب جلال الدین اکبر نے اس مساعی پر پروفیسر ایس اے شکور کو مبارکباد دی اور خود دونوں اداروں کے ملازمین نے بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ اسی دوران پروفیسر ایس اے شکور نے اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی میں عہدیداروں اور ملازمین کیلئے بائیو میٹرک حاضری کا سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حاضری کو باقاعدہ بنایا جاسکے۔ ان کی جانب سے اداروں کے اچانک معائنہ کے موقع پر اکثر ملازمین غیر حاضر پائے گئے۔ ان اداروں میں ملازمین کی آمد و روانگی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ کسی نہ کسی بہانہ عہدیدار اور ملازمین دفتر سے روانہ ہوجاتے ہیں۔ وقف بورڈ میں بائیو میٹرک حاضری سسٹم کی تنصیب کے بہتر نتائج کو دیکھتے ہوئے پروفیسر ایس اے شکور نے تینوں اقلیتی اداروں میں اس سسٹم کو رائج کرنے کی حکومت سے اجازت طلب کی ہے۔