اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے حکمت عملی کا جائزہ

حیدرآباد ۔15 ۔ اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بہت جلد ریاست میں اقلیتی بہبود کی کارکردگی کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں جائزہ لیں گے۔ اقلیتوں کی بھلائی اور ترقی کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جو اہم اعلانات کئے تھے، ان پر عمل آوری کی حکمت عملی طئے کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں طئے کیا گیا کہ اندرون ایک ہفتہ چیف منسٹر کی صدارت میں جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ اقلیتوں سے متعلق بعض نئی اسکیمات کے آغاز کو منظوری حاصل کی جاسکے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر ، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور ، مینجنگ ڈائرکٹر کرسچن فینانس کارپوریشن نکولس ، چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ سلطان محی الدین اور دیگر عہدیداروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ عہدیداروں نے جاریہ مالیاتی سال مختلف نئی اسکیمات کے آغاز کے سلسلہ میں تجاویز پیش کی، جن میں اقلیتی طلبہ کے روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں رہنمائی کیلئے کیریئر گائیڈنس سنٹر کا قیام، اقلیتوں کو سلائی مشین اور نوجوانوں کو موبائیل ریپیرنگ سے متعلق کٹ کی فراہمی اور چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے فینانس کارپوریشن سے راست قرض کی فراہمی جیسی تجاویز شامل ہیں۔

اجلاس میں نئے حج ہاؤز کی تعمیر اور مکہ مکرمہ میں حیدرآبادی رباط کے استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ عہدیداروں نے پہاڑی شریف میں نئے حج ہاؤز کی تعمیر سے متعلق چیف منسٹر کے اعلان کا از سر نو جائزہ لینے کی تجویز پیش کی۔ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ حج ہاؤز کیلئے پہاڑی شریف کے بجائے شہر کے مرکزی مقام کا تعین کیا جانا چاہئے ۔ عہدیداروں نے تجویز پیش کی کہ موجودہ حج ہاؤز کی عمارت سے سرکاری دفاتر کا تخلیہ کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر حج ہاؤز میں تبدیل کردیا جائے یا پھر حج ہاؤز سے متصل کھلی اراضی پر نیا حج ہاؤز تعمیر کیا جائے ۔ حج ہاؤز کی عمارت میں حج سے متعلق سرگرمیاں دو ماہ تک جاری رہیں گی جبکہ باقی 8 ماہ اقلیتوں کیلئے مختلف ٹریننگ کلاسس کا اہتمام کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس تجویز کو چیف منسٹر سے رجوع کرنے کا تیقن دیا۔ حیدرآبادی رباط میں تلنگانہ کے عازمین کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر نے ناظر رباط حسین شریف سے فون پر بات چیت کی اور انہیں حیدرآباد آنے کی دعوت دی۔ حسین شریف نے حیدرآباد دورہ سے اتفاق کیا تاکہ رباط سے متعلق تعطل کی یکسوئی کی جاسکے۔

حکومت ناظر رباط اور اوقاف کمیٹی نظام سے بات چیت کرتے ہوئے اس مسئلہ کی یکسوئی کرے گی۔ عہدیداروں نے تجویز پیش کی کہ غریب اقلیتوں کو چھوٹے کاروبار کیلئے 10 تا50 ہزار روپئے قرض فراہم کیا جانا چاہئے، اس سلسلہ میں بینکوں سے مذاکرات کئے جائیں گے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے راست طور پر چھوٹے قرض کی اجرائی کی بھی تجویز پیش کی گئی۔ تلنگانہ کے ضلع کھمم میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کیلئے فائل حکومت کو روانہ کی جائے گی۔ تلنگانہ کے 9 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ پہلے ہی سے حاصل ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے جون میں تلنگانہ یوم تاسیس کے موقع پر اردو اکیڈیمی کی جانب سے کل ہند مشاعرہ کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔ تلنگانہ میں واقع اردو میڈیم کے 8 ڈائیٹس میں لکچررس کے تقررات اور اردو میں کتابوں کی اشاعت سے بھی اتفاق کیا گیا۔ اردو اکیڈیمی کے کمپیوٹر سنٹرس میں عصری کمپیوٹرس فراہم کئے جائیں گے۔

تلنگانہ کے 9 اضلاع میں 18 اقلیتی اقامتی مدارس و ہاسٹلس تعمیر کئے جائیں گے۔ ہر ضلع میں لڑکے اور لڑکیوں کیلئے ایک ایک اقامتی اسکول ہوگا۔ حیدرآباد میں 6 اقامتی مدارس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ مختلف محکمہ جات میں تقررات اور پبلک سرویس کمیشن کے تقررات کے سلسلہ میں اقلیتی امیدواروں کی رہنمائی کیلئے تلنگانہ اسٹڈی سرکل قائم کیا جائے گا۔ ہر یونیورسٹی میں اقلیتوں کیلئے خصوصی کوچنگ سنٹرس کے قیام کی بھی تجویز ہے۔ یہ تمام تجاویز چیف منسٹر کو پیش کی جائے گی اور ان کی منظوری کے بعد باقاعدہ سرکاری احکامات جاری کئے جائیں گے۔