اقلیتوں کی غالب آبادی والے علاقوں میں برقی کٹوتی سے تکالیف میں اضافہ

سحر و افطار کے وقت خلل اندازی برقرار، حکومت کے خلاف عوام میں برہمی
حیدرآباد ۔ 7 جولائی (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے بیشتر اقلیتی غالب آبادی والے محلہ جات میں برقی سربراہی میں ہونے والی کٹوتی عوام کیلئے تکلیف دہ بنتی جارہی ہے۔ منتخبہ عوامی نمائندے، حکومت کے ذمہ داران اور محکمہ برقی کے عہدیداران یہ دعوے کررہے تھے کہ شام 6 بجے تا صبح 6 بجے بلاوقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنایا جائے گا اور سحر و افطار کے وقت بہرصورت برقی سربراہی برقرار رکھی جائے گی لیکن گذشتہ دو یوم سے شہر کے بیشتر مقامات پر سحر و افطار کے وقت برقی سربراہی میں خلل معمول کی بات نظرآرہی ہے۔ کئی مقامات پر عوام اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ عین مغرب سے قبل برقی سربراہی منقطع ہورہی ہے جو کہ تقریباً نصف گھنٹے تک منقطع رہنے کے بعد بحال ہورہی ہے۔ عوام نے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سحر و افطار کے وقت برقی سربراہی میں خلل سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ بعض شرپسند عناصر یا پھر متعصبانہ ذہنیت کے حامل عہدیدار اس طرح کی حرکتوں کیلئے ذمہ دار ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ برقی سربراہی میں خلل کا وقت شہر میں اچانک روشنی میں اضافہ ہونے کا وقت ہے اسی لئے یہ صورتحال نمودار ہورہی ہے۔ محکمہ برقی کے عہدیدار نے بتایا کہ مغرب سے عین قبل جب تمام روشنیاں کھول دی جاتی ہیں اور ماہ رمضان المبارک کیلئے خصوصی طور پر لگائی گئی اضافی روشنیاں بھی کھلنے لگتی ہیں تو ایسی صورت میں برقی سربراہی پر اضافی لوڈ کے باعث سربراہی منقطع ہورہی ہے۔ اسی طرح جب سحر کے موقع پر اچانک برقی سربراہی میں خلل پڑرہا ہے اس کی وجہ بتاتے ہوئے تکنیکی عملہ کا کہنا ہیکہ سحر کے وقت بھی جب روشنیاں کھولی جاتی ہیں تو اچانک برقی سربراہی منقطع ہوجاتی ہے۔ عہدیداروں کے بموجب محکمہ برقی کی جانب سے نصب کردہ ایک ٹرانسفارمر کے ذریعہ 200 مکانات کو برقی سربراہی یقینی بنائی جائے گی ہے لیکن ماہ رمضان و دیگر تہواروں کے موقع پر جب ان ہی ٹرانسفارمرس کے ذریعہ اضافی برقی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ٹرانسفارمر اس کے ساتھ ساتھ سب اسٹیشن پر اضافی بوجھ عائد ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں برقی سربراہی میں خلل کی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔ برقی سربراہی میں خلل کو دور کرنے کیلئے عہدیداروں کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود سحر و افطار کے وقت معیاری برقی کی سربراہی کو یقینی بنانا محکمہ کیلئے محال نظر آرہا ہے۔ عوام میں ٹی آر ایس حکومت کے خلاف برقی سربراہی کے معاملہ سخت برہمی پائی جاتی ہے اور یہ صورتحال مزید چند یوم رہنے کی صورت میں حکومت کے ذمہ داروں کو سخت عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔