ایم ڈی کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور کی دونوں ریاستوں سے نمائندگی
حیدرآباد ۔ 7 ۔جولائی (سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن نے حکومت سے اس بات کی اجازت طلب کی ہے کہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی فراہمی اسکیم پر عمل آوری کی جاسکے۔ مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے منظورہ درخواستوںکو سبسیڈی جاری کرنے کیلئے تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں سے اجازت طلب کی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے پیش نظر اس اسکیم پر عمل آوری کو روک دیا گیا تھا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے ابھی تک دونوں ریاستوں کی جن درخواستوں کو منظوری دی گئی ان کو سبسیڈی کی اجرائی کیلئے کارپوریشن کے پاس 10 کروڑ روپئے موجود ہے۔ اگر حکومت سبسیڈی جاری کرنے کی اجازت دے تو اقلیتی فینانس کارپوریشن منظورہ درخواست گزاروں کے بینک اکاؤنٹ میں سبسیڈی کی رقم منتقل کردے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ دونوں حکومتیں اندرون ایک ہفتہ اس تجویز کو منظوری دیں گی۔ اس اسکیم کے تحت تلنگانہ کے دس اضلاع میں ابھی تک 5667 درخواست گزاروں کو 23 کروڑ 86 لاکھ روپئے جاری کئے گئے جبکہ مزید 3779 درخواست گزاروں میں سبسیڈی کی اجرائی باقی ہے۔ اسی طرح آندھراپردیش کے 13 اضلاع میں 6054 درخواست گزاروں میں سبسیڈی کے طور پر 22 کروڑ 97 لاکھ روپئے جاری کئے گئے۔ مزید 3644 منظورہ درخواستوں کو سبسیڈی کی اجرائی باقی ہے۔ اسی دوران حکومت نے تمام اقلیتی اداروں کے پی ڈی اکاؤنٹس کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تمام محکمہ جات کے اکاؤنٹس کو منجمد کردیا گیا تھا۔ اس فیصلہ سے اقلیتی اداروں کی رقومات بھی سرکاری خزانہ میں واپس ہوچکی تھیں۔ تاہم حکومت نے اکاؤنٹس کی بحالی کے ساتھ ساتھ اکاؤنٹس میں موجود ساری رقم واپس کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہیکہ اس فیصلہ سے ریاستی حج کمیٹی کے 40 لاکھ روپئے بھی دوبارہ حاصل ہوجائیں گے۔