اقلیتوں کی بہبود کیلئے ٹھوس اقدامات ناگزیر

حیدرآباد۔ 26 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے ایوان کی کمیٹی کی تشکیل کا مسلم حلقوں میں خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی جانب سے اسمبلی میں آج اس اعلان کے بعد سیاست نے اس مسئلہ پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں سے رائے جاننے کی کوشش کی۔ اقلیتی اور اوقافی امور پر گہری نظر رکھنے والی شخصیتوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے سلسلہ میں علحدہ طور پر ایوان کی کمیٹی کا اعلان کرتی۔ حکومت نے جس کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا ہے ، اس کو انڈومنٹ، کرسچین، بودھان اراضیات کے علاوہ دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو الاٹ کردہ اراضیات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوقافی اراضیات کے جامع سروے کیلئے کافی وقت درکار ہوگا۔ لہذا کئی اراضیات کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کو اوقافی اراضیات پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے کم وقت ملے گا۔ سابق میں بھی ایوان کی کمیٹی کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کا سروے کیا گیا اور حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی لیکن حکومت کئی اہم اوقافی اراضیات کے تحفظ کے اقدامات میں ناکام رہی۔ مسلم زعماء اور اکابرین کی رائے ہے کہ حکومت کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اپنی سنجیدگی کے مظاہرے کیلئے ضروری ہے کہ مقررہ مدت کے دوران تمام جائیدادوں کے سروے اور ان کے موقف کا جائزہ لینے کو یقینی بنایا جائے۔ ایوان کی کمیٹی کے لئے رپورٹ پیش کرنے مدت کا تعین کیا جائے تاکہ جلد سے جلد تلنگانہ کے 10 اضلاع میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں پیشرفت ہوسکے۔ مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ سابقہ حکومتوں نے جن قیمتی اراضیات کو مختلف خانگی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کیا،

ان کے ساتھ وقف بورڈ کو بحیثیت پارٹنر شامل کیا جائے تاکہ وقف بورڈ ان اداروں کی آمدنی میں برابر کا حصہ دار ہو۔ مسلمانوں میں بعض گوشوں کی جانب سے حکومت کو پیش کی گئی اس تجویز سے اختلاف کیا کہ اوقافی اراضیات پر موجود اداروں کو برقرار رکھا جائے اور انہیں جس قیمت پر حکومت نے فروخت کیا تھا، اس رقم کو سرکاری خزانہ سے وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق حکومتوں نے خانگی اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو انتہائی حقیر رقم پر قیمتی اراضیات فروخت کردی، لہذا اگر فروخت سے حاصل ہونے والی رقم وقف بورڈ کے حوالے کی جاتی ہے تو اس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کئی قیمتی اراضیات کو چند کروڑ روپئے کے عوض حکومتوں نے فروخت کردیا تھا جبکہ ان کی موجودہ مالیت کئی ہزار کروڑ ہے۔ مسلمانوں کا احساس ہے کہ حضرت بابا شرف الدین ؒ کی اوقافی اراضی پر تعمیر کردہ انٹرنیشنل ایرپورٹ میں وقف بورڈ کو بطور پارٹنر شامل کرنے کی صورت میں جی ایم آر کی آمدنی سے وقف بورڈ کو کروڑ ہا روپئے سالانہ وصول ہوں گے۔ یہ رقم اقلیتوں کی بہبود پر خرچ کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کے تحت اوقافی اراضی واقع منی کونڈہ میں تعمیر کردہ لینکو ہلز میں بھی وقف بورڈ کو مساوی حصہ داری دی جانی چاہئے ۔ ان دونوں اداروں میں وقف بورڈ کو حصہ داری کی صورت میں سالانہ کئی ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی۔ برخلاف اس کے اگر حکومت کی جانب سے فروخت کی گئی مالیت کی رقم وقف بورڈ کو دی جاتی ہے تو یہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور اقلیتی بہبود کے زمرہ میں نہیں آئے گا۔ کئی ادارے بشمول یونیورسٹیز اوقافی جائیدادوں پر قائم ہیں لہذا حکومت کو ایسے اداروں سے اراضیات حاصل کرنے کی مساعی کرنی چاہئے جن پر ابھی تک تعمیری سرگرمیوں کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ ہاؤز کمیٹی میں شامل جماعتوں اور ارکان کو اس جانب توجہ مبذول کرنی ہوگی۔ تاکہ غیر مجاز قبضوں کی شکار اوقافی اراضیات سے وقف بورڈ کو مناسب آمدنی حاصل ہو۔ اگر حکومت تمام اداروں میں وقف بورڈ کو حصہ داری دلانے میں کامیاب ہوتی ہے تو حکومت کو علحدہ طور پر اقلیتی بہبود کا بجٹ مختص کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں اوقافی اراضیات کی بازیابی کا وعدہ کیا تھا۔