… ( ریاست تلنگانہ میں ہر ایک شہری کا تحفظ اور یکساں سلوک) …
تلنگانہ کیلئے نوجوانوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت، ریاستی اسمبلی سے گورنر نرسمہن کا خطاب
حیدرآباد ۔ 11 جون ۔ (سیاست نیوز ) گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کے مختلف فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمزور طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ۔ انھوں نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو 12 فیصد تحفظات ، اقلیتی بہبود کے لئے ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے ، کے جی تا پی جی مفت تعلیم ، سیاسی کرپشن کا خاتمہ ، کسانوں کے قرضہ جات کی معافی ، شہیدان تلنگانہ کے خاندانوں کے لئے امداد اور شہر حیدرآباد کی ترقی کے لئے خصوصی اقدامات کا تذکرہ کیا۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن جو تلنگانہ ریاست کے انچارج گورنر ہیں آج تلنگانہ اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ انھوں نے ٹی آر ایس حکومت کی ترجیحات کا احاطہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں ترقی اور روزگار کی فراہمی سے متعلق منصوبوں کا ذکر کیا۔
انھوں نے امن و ضبط کی برقراری کے علاوہ صنعتی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی کے ذریعہ آئندہ دس برسوں میں 52 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا بھی اعلان کیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب ای ایس ایل نرسمہن ملک کی 29 ویں ریاست تلنگانہ کے دونوں ایوان مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کی جانب سے کئے گئے وعدوں کا عمومی طورپر اپنے خطبہ میں احاطہ کیا اور اُن کا خطبہ زیادہ تر ٹی آر ایس کے انتخابی منشور پر مبنی تھا۔ گورنر نے کہاکہ تلنگانہ ریاست مختلف مذاہب ، زبانوں اور تہذیب کا گہوارہ ہے جہاں مختلف طبقات باہم شیر و شکر زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ کی تہذیب کو گنگا جمنی تہذیب کا نام دیا گیا ہے ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت پابند عہد ہے۔ اقلیتوں کی بہبود کے لئے بجٹ میں سالانہ ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کئے جائیں گے ۔ )
گورنر نے اردو زبان کے تحفظ کیلئے مناسب اقدامات کا بھی تیقن دیا۔ انھوں نے اپنے خطبہ کے آغاز پر تلنگانہ ریاست کے حصول کیلئے سینکڑوں نوجوانوں کی قربانیوں کا تذکرہ کیا اور گزشتہ پندرہ برسوں کی طویل جدوجہد کی یاد تازہ کی۔ انھوں نے کہا کہ سینکڑوں نوجوانوں نے اس امید کے ساتھ اپنی جانوں کو قربان کردیا کہ کروڑوں تلنگانہ عوام کا مستقبل روشن ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ان فرزندوں اور دختروں کی قربانی کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا ۔ حکومت نے شہیدان تلنگانہ کے ہر خاندان کے لئے دس لاکھ روپئے امداد کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ہر خاندان کے ایک مستحق فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے گی ۔ ضرورت مندوں کو ممکنہ اور اُن کے بچوں کو مفت تعلیم کے علاوہ زراعت سے وابستہ خاندانوں کو قابل کاشت اراضی فراہم کی جائے گی ۔ سیاسی رشوت ستانی کو سیاست اور معیشت کے لئے ایک لعنت قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہاکہ اس کے خاتمہ تک ترقی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچائے جاسکتے، لہذا تلنگانہ حکومت سیاسی رشوت ستانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی پابند ہے ۔ انھوں نے کہا کہ رشوت ستانی کے خاتمہ کے لئے ایک شفاف حکمت عملی کو روبہ عمل لایا جائے گا۔ تلنگانہ کے سماجی ڈھانچہ کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہاکہ غریب خاندانوں کو سطح غربت سے اونچا اُٹھانا اور لاکھوں طلبہ تک تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں درج فہرست اقوام ، قبائل ، پسماندہ طبقات ، اقلیتوں اور دیگر طبقات کی بہبودی پر ایک لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ درج فہرست اقوام کی بہبودی کیلئے سابق میں مختلف پروگرام شروع کئے گئے تھے تاہم اُن کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔ ریاستی حکومت درج فہرست اقوام کی بھلائی کیلئے آئندہ پانچ برسوں میں پچاس ہزار کروڑ روپئے مختص کرے گی۔ گورنر نے درج فہرست قبائل کو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ آندھراپردیش کی تنظیم جدید سے متعلق قانون کے مطابق تلنگانہ میں عنقریب ایک قبائیلی یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
پسماندہ طبقات ( بی سی ) کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے اعلان کیا کہ بی سی طبقہ کی بھلائی کیلئے ایک واضح میکانزم کے ذریعہ آئندہ پانچ برسوں میں 25 ہزار کروڑ روپئے پر مشتمل ترقیاتی منصوبہ پر عمل کیا جائے گا ۔ گورنر نے حکومت کی جانب سے دیئے جارہے وظائف کی رقم میں اضافہ کا بھی اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ معذورین کو ماہانہ 1500/- روپئے وظیفہ دیا جائے گا جبکہ معمرین کو ماہانہ 1000/- روپئے اور غریب خواتین کو ماہانہ 1000/- روپئے وظیفہ دیا جائے گا ۔ بیڑی مزدوروں کے معاشی مجبوریوں کو دور کرنے کیلئے ماہانہ 1000/- روپئے امداد دی جائے گی ۔ غریبوں کیلئے امکنہ کی فراہمی سے متعلق حکومت کی اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ غریبوں کو دو بیڈروم ، ہال ، کچن اور باتھ روم کی سہولتوں کے ساتھ تین لاکھ روپئے لاگت سے مکان تعمیر کیا جائے گا۔ گورنر نے تلنگانہ جدوجہد میں اہم رول ادا کرنے والے صحافیوں کی بھلائی کے لئے دس کروڑ روپئے کے کارپس کے ساتھ فنڈ جبکہ وکلاء کی بہبود کے لئے 100 کروڑ روپئے کارپس فنڈ کے قیام کا اعلان کیا۔ انھوں نے تلنگانہ میں آٹو رکشاؤں کو محصول سے مستثنیٰ رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ گورنر نے بتایا کہ اُن کی حکومت مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں روزگار کے لئے مسائل کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے لئے خصوصی شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ خلیجی ممالک میں رہنے والے ورکرس کی بہبود کیلئے بہبود کے ساتھ اُن کی بازآبادکاری کا منصوبہ تیار کیا جائے گا ۔ گورنر نے تلنگانہ سرکاری ملازمین کو خصوصی تلنگانہ انکریمنٹ اور ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ملازم دوست حکومت رہے گی اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ کی تعمیر نو میں ملازمین حکومت سے مکمل تعاون کریں گے ۔
گورنر نے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی روک تھام کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہاکہ خواتین کے تحفظ خصوصاً گھریلو تشدد سے تحفظ کیلئے قانون پر سختی سے عمل کیا جائے گا ۔ آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں برسرروزگار خواتین اس صیانت اور امن و ضبط کی صورتحال پر خصوصی توجہ حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ۔ انھوں نے کہاکہ حیدرآباد میں خاتون ملازمین کیلئے 24 گھنٹے محفوظ مقام بنانے کیلئے حکومت مساعی کرے گی ۔ گورنر نے کہا کہ آبپاشی سہولتوں سے بہتر استفادہ کیلئے ہر اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ ایکر اراضی کو پانی فراہم کیا جائے گا تاکہ دریائے گوداوری اور کرشنا کے پانی کا بھرپور استعمال کیا جاسکے ۔ حکومت تلنگانہ کے تمام زیرالتواء پراجکٹ کی تکمیل پر خصوصی توجہ مرکوز کرے گی ۔ مرکزی حکومت سے پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کو قومی درجہ دینے کی مانگ کرے گی ۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی کو پینے کے پانی کی سربراہی کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پالمور لفٹ اریگشن پراجکٹ کے آغاز کی تجویز ہے تاکہ محبوب نگر میں کاشت کیلئے پانی کی سربراہی کے ساتھ ساتھ حیدرآباد ، رنگاریڈی اور دیگر علاقوں کی پانی کی ضروریات کی تکمیل ہوسکے ۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ میں برقی قلت کا سامنا ہے ، حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ تلنگانہ میں این ٹی پی سی کی جانب سے 4000میگاواٹ برقی صلاحیت پر مبنی پلانٹ قائم کیا جائے۔ اس کیلئے مطلوبہ اراضی ، پانی اور دیگر سہولتیں حکومت فراہم کرے گی ۔ اس کے علاوہ خانگی شعبہ کے ذریعہ تلنگانہ جینکو کے تحت 6000 میگاواٹ برقی کی تیاری کا منصوبہ ہے ۔
آئندہ تین برسوں میں چھتیس گڑھ سے برقی کی خریدی کے اقدامات کئے جائیں گے اور تلنگانہ کو برقی کے شعبہ میں فاضل ریاست بنایا جائے گا ۔ گورنر نے صحت عامہ کی سہولتوں میں اضافہ کیلئے تمام اضلاع میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام اور دیہی علاقوں میں موجود دواخانوں میں بستروں کی تعداد میں اضافے کا بھی اعلان کیا۔ تلنگانہ میں صنعتی ترقی کیلئے بہتر ماحول کی فراہمی کو حکومت کو ترجیح قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ بہت جلد ایک بہترین صنعتی پالیسی وضع کی جائے گی اور چیف منسٹر کے دفتر میں سنگل ونڈو کلیرنس سیل قائم کیا جائے گا تاکہ کسی طرح کی رشوت ستانی کے بغیر پراجکٹس کی عاجلانہ منظوری کو یقینی بنایا جائے۔ صنعتی شعبہ میں ترقی کا مقصد لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے اور اس سے ریاستی معیشت مستحکم ہوگی ۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ کا دارالحکومت حیدرآباد 400 سالہ طویل تاریخ کا حامل ہے ۔ دنیا اور ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے حیدرآباد کو اپنا وطن بنالیا ہے اور یہ ایک کاسموپولیٹن شہر ہے جہاں مختلف تہذیبیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اسی مناسبت سے حیدرآباد کو گنگا جمنی تہذیب کا شہر کہا جاتا ہے ۔ ریاستی حکومت حیدرآباد کے امتیازی برانڈ کو عالمی سطح پر نہ صرف مقبول بنائے گی بلکہ حیدرآباد میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کی صفائی اور دونوں شہروں کے آبی ذخائر کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ بنیادی ضروریات جیسے پائپ لائن کے ذریعہ پینے کے پانی کی سربراہی ، زیرزمین ڈرینیج نظام ، بارش کے پانی کی نکاسی کا نظام ، سائنسی بنیادوں پر کچرے کو جمع کرنا اور اُس کی نکاسی ، آلودگی سے پاک شہر اور صفائی کی نگہداشت کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیحات ہیں تاکہ حیدرآباد سرسبز و شاداب شہر بن جائے۔ گورنر نے منصوبہ بند سٹلائیٹ ٹاؤن شپ کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کو سلم علاقوں سے پاک شہر بنایا جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں سے مشاورت کے بعد ملبورن ، ویانا ، ٹورنٹو شہروں کی طرح ایکسپریس ویز ، ریاپیڈ ماسک ٹرانسپورٹ سسٹم ، ڈومیسٹک ایرپورٹس کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔
تلنگانہ میں آئی ٹی شعبہ کی ترقی کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ آئندہ دس برسوں میں 2.13 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے ذریعہ تقریباً 52 لاکھ راست یا بالواسطہ روزگار کے مواقع نوجوانوں کو فراہم کئے جائیں گے ۔ گورنر نے کہا کہ حیدرآباد کو ایک محفوظ علاقہ اور سرمایہ کاری کے بہتر مقام میں تبدیل کرنے کے لئے امن و ضبط کی برقراری حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ۔ انھوں نے کہاکہ لندن اور نیویارک کی طرز پر شہری علاقوں میں سی سی کیمروں اور عصری نیٹ ورک کے ذریعہ مسلسل نگرانی رکھی جائے گی ۔ گورنر نے واضح کیا کہ ریاست کے مفادات کے مغائر کسی بھی جرم کو آہنی پنجہ کے ساتھ کچل دیا جائے گا ۔ گڑبڑ اور صورتحال بگاڑنے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ گورنر نے کہاکہ عوامی نمائندوں جیسے ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ تک عوام کی بہ آسانی رسائی کیلئے حکومت اُن کے متعلقہ حلقوں میں مستقل دفتر معہ رہائش گاہ کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ حکومت کا ایقان ہے کہ عوامی نمائندوں تک بہ آسانی رسائی کے ذریعہ ہی بہتر حکمرانی ممکن ہے ۔ اس طرح عوام ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ کے پاس اپنی ضرورت کے لئے بروقت رجوع ہوسکتے ہیں۔ گورنر نے جمہوری طرز حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے تلنگانہ اسٹیٹ ایڈوائیزری کونسل کے قیام کا بھی اعلان کیا جس میں سیول سوسائٹی کے ماہرین کے علاوہ دانشور ، صحافتی نمائندے ، رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندے ، سماجی جہد کار اور مختلف پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والی شخصیتیں شامل ہوں گی ۔ خطبہ کے آخر میں گورنر نے اعلان کیا کہ تلنگانہ ریاست میں تمام افراد کو مکمل تحفظ اور اُن کے ساتھ یکساں سلوک کو یقینی بنایا جائے گا