اقلیتوں سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کیا جائے گا

تہنیتی تقریب سے نائب وزیراعلی جناب محمود علی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 8 ۔ دسمبر : ( پریس نوٹ ) : تلنگانہ مسلم ایڈوکیٹس فورم کی جانب سے گیلکسی گارڈن ٹولی چوکی میں تلنگانہ حکومت کے مسلمانوں سے کئے گئے اقلیتی بجٹ کے وعدے کو پورا کرنے پر تہنیتی تقریب منعقد کی گئی ۔ اس تقریب کی سرپرستی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری مولانا عبدالرحیم قریشی ایڈوکیٹ نے کی جس کی نگرانی مولانا مفتی صادق محی الدین نے کی ۔ جس میں مہمان خصوصی تلنگانہ نائب وزیر اعلی جناب محمود علی نے شرکت کی ۔ جس میں مفتی ضیا الدین نقشبندی ، مولانا لطیف علی قادری صدر تعلیمی کمیٹی جامعہ نظامیہ ، مولانا عبدالقدیر صدر انجمن قدیم طلباء جامعہ نظامیہ ، نائبین قضات ویلفیر اسوسی ایشن کے صدر جناب محمد ذوالفقار علی ، قاضی اعجاز محی الدین قادری ، جناب سید مشتاق الدین اور دیگر علمائے دین اور شیخ پیٹ ڈیویژن کے تمام کالونیوں کے ویلفیر اسوسی ایشن کے اور اعمائے مساجد اور انتظامی کمیٹی کے عہدیداران موجود تھے ۔ اس جلسہ کی صدارت تلنگانہ مسلم ایڈوکیٹس فورم جناب وحید احمد ایڈوکیٹ نے کی ۔ اس جلسہ کی کارروائی تلنگانہ چیمبر آف کامرس کے جناب محمد ماجد انصاری نے چلائی ۔ اس موقع پر مفتی صادق محی الدین نے تلنگانہ حکومت کے اسمبلی اجلاس میں منظورہ بلس کی ستائش کی اور اقلیتوں کے لیے مختص کئے گئے 1030 کروڑ بجٹ کا خیر مقدم کیا ۔ مولانا عبدالرحیم قریشی ایڈوکیٹ نے محمود علی کو ایک شریف النفس اور دیندار اور مخلص شخصیت قرار دیا ۔ اور تمام حکومتی اداروں میں خصوصی بیورو کریٹس میں مسلمانوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر وحید احمد ، محمد نظام الدین ، میر واجد علی خاں ، محمد مسیح الدین ، محمد برہان ، ایم اے روف صدیقی ، محمد ایاز الدین ، محمد جاوید ایڈوکیٹس اور دیگر وکلاء کی جانب سے نائب وزیر اعلی الحاج محمد محمود علی کو تہنیت و گل پوشی کی گئی ۔ مہمان خصوصی الحاج محمد محمود علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے قائم ہونے کے ایک ہی سال بعد یعنی 2002 میں ہماری پارٹی کے صدر اور میرے اور اقلیتوں کے مسیحا کے طور پر ابھرنے والے تلنگانہ حکومت کی وزیر اعلی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ ریاست قائم ہونے پر 1000کروڑ روپئے دینے کا اقلیتوں سے وعدہ کیا تھا جو کہ آج تلنگانہ علحدہ ریاست قائم ہوچکی ہے ار وزیر اعلی اور تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے اپنے عدہ کو پورا کرتے ہوئے اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے 1030 کروڑ روپئے کی شکل میں بل کو منظور کردیا اور رقم بھی جاری کردی اور اقلیتوں کے لیے اردو کو دوسری سرکاری زبان ، عیدین کے دوسرے دن بھی سرکاری تعطیل ، شادی مبارک اسکیم ، آسرا پنشن اسکیم اور دیگر تمام وعدہ جو اقلیتوں سے کئے گئے اس کو ایسے مسیحا لیڈر کی شکل پورا کیا جائے گا اور انہوں نے تمام علمائے دین ، تمام کالونیوں کے ویلفیر اسوسی ایشن کے اور اعمائے مساجد اور انتظامی کمیٹی سے اپیل کی کہ حکومت کی تمام اسکیمات کو عوام تک پہنچانے کے لیے شعور بیدار کریں اور اپنی کالونیوں اور مساجد کے روبرو شعور بیداری بورڈ نصب کئے جائیں ۔۔