افغان صدارتی انتخاب : طالبان دھمکی کے باوجود ووٹنگ

کابل ؍ اسلام آباد، 14جون (سیاست ڈاٹ کام) افغان شہری اپنے ملک کے صدارتی انتخاب کے دوسرے و آخری راؤنڈ میں آج شنبہ کو ووٹ ڈالنے کیلئے قطاروں میں دیکھے گئے، جنھیں کوئی نئے لیڈر کو منتخب کرنا ہے جو افغانستان امریکی قیادت والی ملٹری فورسیس کی آنے والی دستبرداری سے کامیابی سے گزار سکے۔ اس ملک کے دیہی حصوں میں متعدد حملوں کی اطلاعات کے باوجود طالبان ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹنگ کو درہم برہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق رائے دہندوں کی حاضری اپریل کی پہلے راؤنڈ والی ووٹنگ کے مساوی معلوم ہوتی ہے۔ افغانستان کے سبکدوش ہونے والے صدر حامد کرزئی نے بھی آج اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔

وہ دیگر اعلیٰ سطح کے عہدیداروں کے ساتھ قصر صدارت سے قریب امانی ہائی اسکول کے پولنگ اسٹیشن پر صبح 7-45 بجے پہنچے اور ووٹ ڈالا ۔ افغان دستور کے مطابق حامد کرزئی مسلسل تیسری بار صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اگرچہ ابتدائی اعداد و شمار میں تلبیس شخصی کا لحاظ نہیں رکھا گیا جو پہلے ہی ایک مسئلہ بن چکا ہے، لیکن رائے دہی کا تناسب افغان اور مغربی عہدیداروں کی پیش قیاسیوں سے تجاوز کرتا نظر آرہا ہے۔ فرسٹ راؤنڈ والا جوش و خروش جہاں کابل میں دکھائی نہیں دیا، وہیں افغان ووٹروں نے اپنے مستقبل کے تعلق سے محتاط پُرامیدی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے جنھوں نے تباہ کن خانہ جنگی اور طالبان کی جابرانہ حکمرانی کا دور دیکھا ہے، انھیں اپنے ووٹ دینے کی آزادی کے حق سے استفادے کا موقع گنوانا نہیں ہے، چاہے انھیں کسی صدر کیلئے دو ماہ میں دوسری ووٹ دینا کیوں نہ پڑے۔

امریکہ بھی افغانستان میں اپنی 13 سالہ موجودگی کا خاتمہ کرتے ہوئے اقتدار کی باگ ڈور خود افغانیوں کو سونپنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ طالبان کو امریکہ شکست فاش دینے میں ناکام رہا ہے ۔ رائے دہی کے پہلے گھنٹے کے دوران کسی بھی حملے کی کوئی اطلاع نہیں ہے حالانکہ کابل ایرپورٹ کے قریب دو دھماکوںکی طالبان نے ذمہ داری قبول کی ہے جس میں کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ اب کچھ ہی گھنٹوں یا دنوں میں پتہ چل جائے گا کہ افغانستان کا نیا صدر کون ہوگا؟ کیا وہ افغانستان کے سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ ہوں گے یا پھر ورلڈ بینک کے سابق ماہر معاشیات اشرف غنی ہوں گے ؟ دوسری طرف پاکستان نے بھی ایک اچھے پڑوسی ملک ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پاک ۔افغان سرحد کے اہم اور حساس مقامات پر سکیوریٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے ہیں ۔