افغانستان میں جنگ کے خاتمہ کیلئے امریکی کوششیں تیز

واشنگٹن،22جولائی(سیاست ڈاٹ کام) ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں میں تیزی آگئی ہے اور اس سلسلے میں امریکی حکام نے پہلی مرتبہ طالبان کے سابق اراکین سے ملاقاتیں کیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے کابل، پشاور اور واشنگٹن میں موجود نمائندوں کی مشترکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام اور طالبان اراکین کے درمیان افغانستان، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور قطر میں خفیہ مقامات پر ملاقاتیں ہوئیں ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں طالبان کے 3 سینئر کمانڈر اور امریکہ کے کم از کم 5 اعلیٰ حکام شریک ہوئے تھے ۔اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان اس مقصد کے لیے اپنے سابق کمانڈروں اور سیاسی رہنماؤں کو استعمال کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا جو طالبان رہنما یا کمانڈر ان ملاقاتوں میں حصہ لیتے ہیں وہ ماضی میں امریکہ یا پھر افغانستان کی جیلوں میں قید رہے ہیں، اور حال میں ان کا طالبان کے نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں۔رپورٹ میں افغانستان میں جاری امریکی جنگ کی تفصیلات کے حوالے سے بتایا گیا کہ واشنگٹن کے 2001 سے اب تک خطے میں 2 ہزار 4 سو سے زائد فوجی مارے جاچکے ہیں۔تاہم دوحہ میں ہونے والی اس ملاقات میں موجود ‘ایک فرد’ نے بتایا کہ یہ ملاقات ہلکے پھلکے ناشتے کے ساتھ بہت ہی دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس ہوٹل میں یہ ملاقاتیں ہوئی تھیں، اس کے اندر اور باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ہوٹل ملازمین کو بھی مخصوص کمروں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان نے بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کا مطالبہ کیا تھا اور وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ انہیں روسی، چینی یا پھر عرب ممالک کے خفیہ ادارے پہچان لیں۔ملاقات میں شریک ‘فرد’ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ طالبان گروپ کے شکل میں سفر نہیں کیا تاہم جیسے ہی امریکی ملاقات کے مقام پر پہنچے تو طالبان ایک ایک کرکے وہاں پہنچ گئے ۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ دوحہ کے ہوٹل کو ملاقات کے مقام کے طور پر اس لیے منتخب کیا گیا تھا کیونکہ امریکی اور طالبان، دونوں ہی ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔جب اس حوالے سے امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو حکام نے ملاقات کی تصدیق نہیں کی، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ افغان مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے