نئی دہلی ۔ 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ افراط زر کوئی بڑا چیلنج نہیں ہوگا حالانکہ اس بات کا امکان ہیکہ مانسون اوسط سے کم ہوگا اور اس کا اثر غذائی اجناس کی قیمتوں پر مرتب ہوگا۔ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتیں اوسط سطح پر آ گئی ہے۔ یہ ہمارے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے افراط زر میں بھی کمی آئی ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ آئندہ دنوں میں افراط زر ملک کیلئے کوئی بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں جیٹلی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے غذائی اجناس کی قیمتیں کم رکھنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سرگرم حکومت ہمیشہ غذائی اجناس کی قیمتیں کم رکھے گی۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مانسون اوسط سے کم ہونے کا اندیشہ ہے جس کے اثرات غذائی اجناس اور دیگر اشیاء کی قیمتوں پر آئندہ دو ماہ میں اثر مرتب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جو چیلنج درپیش ہے، جس میں کمزور مانسون، خانگی سرمایہ کاری کا فروغ اور عالمی معاشی مسائل سے نمٹنا شامل ہیں۔ این ڈی اے حکومت کے ایک سال کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ قوم کیلئے یہ ایک ’’اطمینان بخش‘‘ سال رہا۔ قوم پالیسی کے مفلوج ہوجانے اور ملک کے دیوالیہ ہوجانے کے بعد سے آگے بڑھ چکی ہے۔ سال کا آغاز دیوالیہ ہونے کی صورتحال سے ہوا تھا جس کی وجہ فیصلہ سازی کی عدم موجودگی، بے سمتی اور سکڑتی ہوئی معاشی سرگرمیاں تھی۔ اب عالمی تناظر میں ہندوستان نے دنیا بھر کو چیلنج کیا ہے ۔ اس کی سمت بالکل واضح اور درست ہے۔ ا س کی کارروائیوں کا مقصد معیشت میں نئی جان ڈالنا اور اسے نتیجہ خیز بنانا ہے۔ چلر فروشی کے شعبہ میں افراط زر بھی گذشتہ چار ما ہ میں کم ہوکر 4.87 فیصد رہ گیا ہے۔