نئی دہلی۔ 16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) افراطِ زر تین ماہ میں دوسری بار منفی ہوجانے پر انڈیا اِن کارپوریشن نے آج ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) پر زور دیا کہ اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے اضافہ شدہ شرح سود میں کمی کی جائے تاکہ طلب میں اضافہ ہو اور صنعتی فروغ کا احیاء ممکن ہوسکے۔ اوسط افراطِ زر کا رجحان جاری رکھتے ہوئے ٹھوک فروش اور چلر فروشی کی سطح پر گزشتہ تین ماہ میں دوسری بار افراطِ زر منفی ہوگیا ہے اور صنعتی شعبہ سے پائیدار رقومات کی وصولی ہنوز نظر نہیں آتی۔ اس لئے صدر فکی جیوتسنا سوری نے کہا کہ پانچ سال چھ ماہ میں پہلی بار ماہ جنوری میں افراط زر منفی 0.39 فیصد ہوگیا ہے۔ پی ایچ ڈی چیمبر کے صدر الوک بی شری رام نے کہا کہ افراط زر کا منفی رجحان طلب میں اضافہ کی اور پیداوار کنندوں کیلئے بڑی راحت رسانی کی وجہ ہونا چاہئے۔ اس مرحلے پر آر بی آئی کو اپنی شرح سود میں نمایاں کمی کرنا ناگزیر ہے تاکہ طلب میں اضافہ ہوسکے، یعنی مختلف صارفین اور پیداواری شعبوں کو قرض آسانی سے دستیاب ہوسکے۔ تاہم غذائی اجناس کے افراط زر میں جنوری میں اضافہ کا رجحان دیکھا گیا۔ گزشتہ چھ ماہ میں سب سے زیادہ بلند یعنی 8 فیصد افراط زر غذائی اجناس کے شعبہ میں پایا جاتا ہے۔ دالیں، ترکاریاں اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء جنوری میں گزشتہ ماہ کی بہ نسبت زیادہ مہنگی ہوگئیں ۔ آر بی آئی کے گورنر رگھو رام راجن نے مالی پالیسی پر نظرثانی کے موقع پر شرح سود کو جوں کا توں برقرار رکھا۔انہوں نے کہا تھا کہ بجٹ کے بعد ہی کوئی اقدام ممکن ہوگا۔