اسلام آباد ۔ 9 جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) لشکر طیبہ کے آپریش کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی جو 2008 ء میں ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں ، پاکستانی عدالت نے ایک افغان شہری کے اغواء معاملہ میں اُن کی ضمانت منظور کرلی ہے تاہم 54 سالہ لکھوی کو اڈیالا جیل سے اُس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جب تک ایک دیگر عدالت حکومت کے مینٹننس آف پبلک آرڈر (MPO) کے تحت اُن کی گرفتاری کا فیصلہ نہیں کرلیتی۔ اسلام آباد کی ایک زیریں عدالت نے افغان شہری انور خان کے اغواء معاملہ میں لکھوی کی درخواست منظور کرلی اور 200,000 روپئے کے شخصی مچلکہ پر اُن کی ضمانت منظوری کرلی ۔ لکھوی کے وکیل راجہ رضوان عباس نے یہ بات بتائی ۔ انھوں نے کہاکہ جج میاں اظہر ندیم کو اس بات کا قائل کیا گیا ہے کہ اُن کے ( رضوان ) موکل کو اغواء کے جھوٹے معاملہ میں پھنسایا گیا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایف آئی آر میں ایک ایسے مغویہ شخص کا ذکر کیا گیا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور اسطرح پولیس نے ایک من گھڑت کہانی تیار کرتے ہوئے اُن کے موکل کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلنے کا پورا انتظام کرلیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے دباؤ میں آکر پاکستان نے لکھوی کے خلاف ایک فرضی مقدمہ رجسٹر کرنے میں انتہائی عجلت سے کام لیا کیونکہ ہندوستان لکھوی کی ضمانت منظور ہونے پر خوش نہیں تھا۔ دوسری طرف وکیل استغاثہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس انور خان کو اغواء کئے جانے کے معاملہ میں لکھوی کیخلاف تحقیقات کررہی ہے ۔