اعظم خان کی تقریب انعامات میں عدم شرکت سے خود محبان اردو کا ہی زیادہ نقصان

لکھنو۔10اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) اردو ویلفیر سوسائٹی کا ایک جلسہ علی گنج میں ڈاکٹر نسیم اقبال کی صدارت میں ہوا جس میں 4اگست کو چیف منسٹر کی قیام گاہ پر اردو مصنفین کی کتابوں کے انعامات کی تقسیم میں تقریب کے میرکارواں سمجھے جانے والے محمد اعظم خان کی عدم شمولیت کو محبان اردو کی بدقسمتی سے تعبیر کیا گیا ۔ صدر جلسے نے کہا کہ اگر اس تقریب میں محمد اعظم خان صاحب موجود ہوتے تو یقیناً چیف منسٹر اکھلیش یادو محبان اردو کے لئے بڑے بڑے اعلان خاص طور پر اکیڈیمی کی گرانٹ میں اضافہ کرنے‘ اردو اکیڈیمی کی جانب سے پہلی مرتبہ اردو مسلم طلبہ کیلئے کھولی جانے والی آ:ی اے ایس کوچنگ‘ بیمار ادباء ‘شعراء ‘ صحافیوں کی پنشن میں اضافہ ‘ پرائیوٹ اسکولوں میں اردو اکیڈیمی کی جانب سے ٹیچر کا تقرر کر کے اردو تعلیم وغیرہ کے اعلان ہوسکتے تھے لیکن افسوس اتنا اچھا سنہرا موقع محبان اردو کے ہاتھ سے چلا گیا ۔ اب ویلفیر سوسائٹی محمد اعظم خان سے درخواست کرتی ہے کہ وہ خود ہی محبان اردو کے مسائل کی جلد از جلد یکسوئی کرے اور اکھلیش یادو حکومت کو اردو کے حق میں سرخرو کردیں۔