اصلاحات کے ذریعہ عام افراد کی اعلی تعلیم تک رسائی ضروری

وائس چانسلرس اور ماہرین تعلیم کا اجلاس ۔ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کا خطاب
حیدرآباد ۔ 16 جولائی ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے کہا کہ قانونی اصلاحات عام افراد کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے موافق ہونا چاہیئے ۔ یونیورسٹیز کو راست فنڈز کی منتقلی کیلئے رہنماخطوط تیار ہونے چاہیئے ۔ مرکز کی جانب سے یو جی سی کی جگہ نئے ایجوکیشن کمیشن انڈیا 2018ء کے بل میں کئی نقائص اور خامیاں ہیں ۔ بل کا تفصیلی جائزہ لے کر 20جولائی سے قبل اپنی رائے مرکز کو روانہ کرنے کا اعلان کیا ۔ ہائیر ایجوکیشن کونسل کے زیراہتمام امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں منعقدہ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس ‘ ماہرین تعلیم کے اجلاس سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ مرکز کی جانب سے تعلیمی شعبہ میں اصلاحات ملک کی یونیورسٹیز کا گلوبل یونیورسٹیز میں مقام حاصل کرنے کے مترادف ہونا چاہیئے ۔ اسکول تا یونیورسٹی سطح تک ٹیچرس کو ان سرویس تربیت ہر حال میں دینا چاہیئے ‘ تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کیا جانے والا بل ہائیر ایجوکیشن کمیشن انڈیا 2018کئی نقائص پر مشتمل ہے جس میں یونیورسٹیز کے اختیارات چھین لئے جارہے ہیں ۔ چند یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا انتخاب مرکز سے کئے جانے پر عوام میں غلط پیغام پہنچنے کے خطرات ہیں ۔ بل میں زیادہ سرکاری آفیسرس ہیں ۔ ماہرین تعلیم اور تعلیم یافتہ شخصیتوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ تعلیمی اداروں میں ایس سی ‘ ایس ٹی اندراج کے معاملے میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست ہے ۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ این ڈی اے دور حکومت میں گذشتہ 4سال سے تعلیمی بجٹ گھٹایا جارہا ہے ‘ ساتھ ہی مرکزی تعلیمی اداروں میں نصف سے زیادہ مخلوعہ جائیدادیں ہیں جن پر تقررات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ پہلے ہی ملک کے تعلیمی نظام کا جائزہ لینے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا اس کی رپورٹ وصول ہونے سے قبل نئے کمیشن پر تجاویز طلب کرنا معنی خیز ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ نئے اصلاحات پر عمل سے قبل عوام کو رائے پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور نے ریاستوں کو اپنی ضرورت کے مطابق یونیورسٹیز اورک الجس قائم کرنے کی گنجائش فراہم کی ہے جو نیا بل متعارف کرایا جارہا ہے ان تمام سہولتوں کو برخواست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بل کے ہر کلاس پروائس چانسلرس ‘ تعلیم یافتہ شخصیتوں ‘ماہرین تعلیم سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد رپورٹ تیار کی جائیگی ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے اس کی منظوری کے بعد 20جولائی سے قبل مرکز کو روانہ کی جائے گی ۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ تجاویز پر تلنگانہ کے ارکان پارلیمنٹ بل میں ترمیمات کیلئے ایوانوں میں آواز اٹھائیں گے ۔