حیدرآباد ۔ 10 ۔ جون : طلباء و طالبات کے لیے جہاں اسٹیشنری ، کاپیاں ( نوٹ بکس ) اور کتابیں بہت ضروری ہوتی ہیں وہیں اسکول بیاگس ( بستے ) بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ ماضی کی بہ نسبت اب تو بازار میں نت نئے ڈیزائن انداز اور میٹریل کے بستے دستیاب ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ کے جی سے لے کر پی جی کے طلبہ کے لیے جو بیاگس فروخت کئے جارہے ہیں ان میں طلباء وطالبات کے لیے علحدہ علحدہ بیاگس رکھے جارہے ہیں ۔ اب جب کہ بیشتر اسکولس کی کشادگی عمل میں آچکی ہے اور اولیائے طلبہ نے اسٹیشنری کاپیوں اور کتابوں کی خریدی کرلی ہے اور بیاگس بھی خرید رہے ہیں ۔ ایسے میں راقم الحروف نے سوچا کہ کیوں نہ اس مرتبہ اسکول بیاگس کی تیاری اور اس کی فروخت کے ساتھ ساتھ طلباء اور اولیائے طلباء کی پسند نا پسند کے بارے میں رپورٹ پیش کی جائے ۔ ہم نے جن اسٹیشنری والوں سے بات کی ان تمام کا یہی کہنا تھا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ہمیشہ کی طرح کاروبار کئی سو فیصد بڑھ جاتا ہے ۔ جہاں تک اسکولی بستوں کی فروخت کا سوال ہے بیگم بازار کو سب سے بڑا مارکٹ کہا جاسکتا ہے اس لیے کہ وہاں اسکولی بیاگس فروخت کرنے والی کم از کم 500 دکانات ہیں اور اسی بازار سے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے تمام بازاروں اور اسٹیشنریوں کو بیاگس سپلائی کئے جاتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ہم نے انڈین بیاگ ہاوز کے عرفان خان سے بات کی ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے بھائی اپنے والد جناب عمر خاں کی سرپرستی میں برسوں سے یہ کاروبار کرتے ہیں ۔ عرفان کے مطابق بیگم بازار سے اسکول بیاگس تلنگانہ اور آندھرا کے تمام اضلاع کے علاوہ کرناٹک کے بعض علاقوں اور مہاراشٹرا کے اورنگ آباد اور جالنہ کے بازاروں میں بھیجے جاتے ہیں ۔ اسکول بیاگس کی تیاری میں استعمال ہونے والے میٹریل اور کپڑے کے بارے میں سوال پر عرفان نے کہا کہ میاٹی کینوس اور وائٹ چھاگل سے تیار کردہ بیاگس مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں ۔ آج کل میاٹی کی بہت مانگ ہے ۔ یہ 115 روپئے فی میٹر کے حساب سے ملتا ہے ایک بیاگ ایک میٹر کپڑے میں تیار ہوجاتا ہے جب کہ آج کل بچے زیادہ سے زیادہ زیپ اور زیادہ خانوں کے بیاگس کو ترجیح دیتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پانچویں اور چھٹویں جماعت کے طلباء کے لیے ایک میٹر میں بیاگ تیار ہوجاتا ہے ۔ جب کہ کینوس سے جو بیاگس تیار ہوتے ہیں وہ واٹر پروف ہوتے ہیں لیکن کینوس کے بیاگس کو اب اولڈ ماڈل کہا جانے لگا ہے ۔ اس کے باوجود اس کے تیار کردہ بیاگس بہت ہی مضبوط ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ Mati 6×6 ، 105 روپئے میٹر ملتا ہے ۔ اس کپڑے سے تیار کردہ بستے ایک سال تک بآسانی چلتے ہیں ۔ اس میٹریل سے ایک میٹر میں بڑا اور آدھے میٹر میں چھوٹا بیاگ بن جاتا ہے ۔ عرفان کی طرح بیگم بازار کے دوسرے بیوپاریوں نے بھی ہمیں بتایا کہ ان کے پاس بیاگس کا جو اسٹاک ہے اس کی قیمتیں مختلف ہیں ۔ جماعت اول کے لیے کم سے کم 55 روپئے تا 100 روپئے میں بیاگس دستیاب ہے اسی طرح اول تا پنجم میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے 100 تا 250 روپئے میں بیاگس فراہم کیا جاتاہے پانچویں جماعت تا دسویں جماعت میں زیر تعلیم طلبہ کے بیاگس کی قیمت 350-300 روپئے بنتی ہے لیکن اسٹیشنریوں پر تھوڑے بہت منافع سے ان بیاگس کی فروخت عمل میں آتی ہے ۔ عمر خاں کی دکان میں 22 کاریگر کام کرتے ہیں ایک کاریگر تین تا چار درجن بیاگس کی سلوائی کردیتا ہے اس طرح اسے یومیہ 400 تا 500 روپئے کی آمدنی ہوجاتی ہے ۔ عرفان کے مطابق دہلی اور ممبئی سے مال آتا ہے لیکن اب چینی مال کی بھی بازار میں بہتات ہے ۔ جب کہ مدینہ بلڈنگ ، چارمینار ، گلزار حوض ، سلطان بازار ، کوٹھی ، سکندرآباد بازار ، نامپلی ، مہدی پٹنم وغیرہ میں اسکولس اور سفری بیاگس کی زبردست فروخت ہوتی ہے ۔ چارمینار کے دامن میں اسکول بیاگس فروخت کرنے والے ایک نو عمر لڑکے نے بتایا کہ وہ سارا مال کالے پتھر میں واقع محبوب بھائی کی فیکٹری سے حاصل کرتا ہے ۔ جہاں 100 سے زائد لوگ روزگار سے جڑے ہوئے ہیں اور 65 مشینس چلتے ہیں ۔ محبوب بھائی کی فیکٹری سے اندازاً یومیہ 3000 بیاگس تیار ہوکر نکلتے ہیں ۔ جب کہ چھوٹے کاروباری اور گھریلو خواتین بھی ان سے سلوائی کا کنٹراکٹ حاصل کرتے ہوئے اپنے خاندان کے لیے آمدنی کا ذریعہ پیداکرلیتے ہیں ۔ اس فیکٹری سے آندھرا اور تلنگانہ دونوں ریاستوں سے اسکولی بیاگس سپلائی کئے جاتے ہیں ۔ دوسری طرف سرکاری اور خانگی اسکولوں میں اسکولس بیاگس اور دیگر تعلیمی اشیاء بشمول ٹرافیز ، مومنٹوز سپلائی کرنے والے سلیکٹ ٹریڈرس چھتہ بازار کے ذیشان نے بتایا کہ وہ اسکول بیاگس سپلائی کرتے ہیں انکی قیمت 80 روپئے ، 150 ، 200 سے لے کر 2500 روپئے تک بھی ہے ۔ اس کاروبار میں برسوں سے مشغول سلیکٹ ٹریڈرس کے عفان قادری نے بتایا کہ نرسری تا ایس ایس سی اسکولس بیاگس کی نوعیت الگ ہوتی ہے ۔ ان بیاگس میں پانی کی بوتل ، لنچ باکس اور کمپاس پینلس اور دیگر سامان رکھنے کے لیے الگ الگ خانے ہوتے ہیں ۔ جتنے خانے ( حصہ ) زیادہ ہوں گے ۔ قیمت میں بھی اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ تالاب کٹہ ، نواب صاحب کنٹہ ، جھرہ جیسے علاقوں میں یہ بیاگس تیار کئے جاتے ہیں ۔ امام باڑہ یاقوت پورہ کے رہنے والے محمد امام الدین کے مطابق وہ گذشتہ چالیس برسوں سے اسکول بیاگس کی سلوائی و تیاری کا کام کررہے ہیں وہ آرڈر پر بیاگس تیار کر کے دیتے ہیں ۔ نئے تعلیمی سال کے دوران کام بڑھ جاتا ہے ایک بیاگ کی سلوائی پر آدھا پون گھنٹہ لگتا ہے ۔ محمد امام الدین نے جو دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے باپ ہیں نے بتایا کہ ان کی ایک بیٹی کی شادی ہوئی ہے جب کہ دوسری بیٹی 5 ویں جماعت اور بیٹا چوتھی جماعت میں پڑھ رہا ہے ۔ تعطیلات کے باعث بیٹا شیخ عبدالقادر اپنے والد کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ اس معصوم بچے نے بتایا کہ ہم خاص اسکولی بیاگ استعمال نہیں کرتے بلکہ بابا جو بھی دیتے ہیں اسے لے لیتے ہیں ۔ 10 سالہ شیخ عبدالقادر پڑھنا چاہتاہے اس کی خواہش ہے کہ اچھا پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے ۔ محمد امام الدین کے مطابق اگرچہ کام بہت ہے لیکن اپنی کمزور مالی حالت کے باعث وہ زیادہ آرڈرس نہیں لے سکتے ۔ اس کے باوجود اللہ کے فضل سے 350 ۔ 400 روپئے یومیہ کما لیتے ہیں ۔ بہر حال شیخ عبدالقادر کی باتیں سن کر ہم سوچنے لگے کہ کئی ایسے لوگ ہوں گے جو دوسروں کے بچوں کو دیدہ زیب اور خوبصورت اسکول بیاگس فروخت کرتے ہیں لیکن ان میں اپنے بچوں کے لیے کاپیاں کتابیں اور قیمتی بیاگس خریدنے کی استطاعت نہیں ۔۔