اسکولی بچوں کے تحفظ پر ٹریفک پولیس کی مہم کے مثبت نتائج

والدین اور سرپرستوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ،358موٹرگاڑیوں کیخلاف مقدمات
حیدرآباد۔/23جون، ( سیاست نیوز) شہر میں اسکولی بچوں کے تحفظ کیلئے حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے شروع کردہ مہم کے ثمر آور نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ تاہم سٹی پولیس کے ٹریفک شعبہ نے اولیائے طلبہ کو بھی تاکید کی ہے کہ وہ ایسی سواری کو اہمیت نہ دیں جو اپنی صلاحیت سے زیادہ کا استعمال کرتا ہے۔ ایسے آٹوزو دیگر گاڑیوں میں بچوں کو اسکول روانہ نہ کریں جو سیٹنگ کیپاسٹی سے زیادہ بچوں کو بٹھاتے ہیں۔ آج کے دن اس خصوصی مہم سیفٹی آف اسکول چلڈرنس کے تحت 33 آٹو ڈرائیورس کے خلاف کارروائی کی گئی جو بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے آٹو چلارہے تھے۔سٹی پولیس کے ٹریفک شعبہ نے ان آٹو ڈرائیورس کے خلاف چارج شیٹ کو بھی داخل کردیا اور امکان ہیکہ ان کے خلاف سزا کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس اسپیشل ڈرائیو میں ٹریفک پولیس کی جانب سے جملہ 945 آٹورکشا،20 ویان اور 15اسکول بسوں کی جانچ کی گئی اور 358 مقدمات درج کئے گئے جن میں 33 آٹوڈرائیور بغیر لائسنس کے پائے گئے اور 34ایسی گاڑیوں کو ضبط کرلیا گیا جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے۔ ٹریفک شعبہ کے ایڈیشنل کمشنر نے اپنے جاری کردہ بیان میں شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے تحفظ پر توجہ دیں ، انہیں ایسی گاڑیوں میں سفر کی اجازت نہ دیں جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ جس آٹو میں شہری اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرتے ہیں ان آٹو ڈرائیورس کے لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات کی جانچ کرلیں اور مطمئن ہونے کے بعد ہی انہیں اپنے بچوں کو لے جانے کی اجازت دیں۔ انہوں نے کہا کہ لائسنس کے ساتھ ساتھ رجسٹریشن، فٹنس اور انشورنس کی جانچ کی جائے۔ سٹی پولیس کے ٹریفک شعبہ کی جانب سے گزشتہ تین دنوں کے دوران کی گئی کارروائی میں جملہ 877 آٹو رکشا، 122 ویان اور 4 ٹو وہیلرز کے خلاف کارروائی کی گئی۔ جن میں 2 نشہ کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے ، 71 بغیر ڈرائیونگ لائسنس ،7 انتہائی درجہ کی خلاف ورزی کے مرتکب اور ایک موٹر وہیکل ایکٹ کا مخالف پایا گیا۔