حیدرآباد ۔23نومبر(این ایس ایس ) تلگودیشم پارٹی کے ارکان نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر مدھو سدھن چاری کے خلاف 24 نومبر کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے پیش نظر اندیشہ ہے کہ کل ایوان میں حکمراں ٹی آر ایس اور اپوزیشن تلگودیشم ارکان کے درمیان تلخ مباحث ہوں گے ۔ تلگودیشم ارکان اس بات پر چراغ پا ہیںکہ حکمراں جماعت کے ارکان ان کے خطاب کے دوران مسلسل دخل اندازی کررہے ہیں اور ان کے مطابق اسپیکر بھی ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔ تلگودیشم کے ارکان توقع ہے کہ اسپیکر کے خلا ف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس دیں گے اور پیر کو 10 بجے دن اجلاس کے آغاز کے بعد اس تحریک پر رائے دہی کیلئے اصرار کریں گے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے اراضیات کی فراہمی اور ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ کے کویتا کی رکنیت کے بارے میں الزامات عائد کرنے والے تلگودیشم کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی کی سرزنش کی تھی ۔ چیف منسٹر نے سابقہ کانگریس حکومت کی طرف کی گئی اراضی کی معاملتوں پر ایوان میں بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ ان معاملتوں سے ٹی ار ایس حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ چیف منسٹر نے ریونت ریڈی کو ڈانٹ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ (ریونت ریڈی) ایوان کی کارروائی میں مسلسل خلل اندازی کررہے ہیں اور معذرت خواہی سے بھی انکار کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے اسپیکر سے درخواست کی تھی کہ حکومت کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہونے والے اور جھوٹے الزامات عائد کرنے والے ارکان کو معطل کردیا جائے۔قبل ازیں ایوان میں ہنگامہ آرائی پر تلگودیشم کے 10 ارکان کو ایک ہفتہ کے لئے معطل کردیا گیا تھا جس پر برہم تلگودیشم پارٹی نے حکمران ٹی آر ایس کو پریشانی کا شکار بنانے کے مقصد سے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلگودیشم کے ارکان اگرچہ اپنے اقدام کے ذریعہ ٹی آر ایس کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کی تحریک عدم اعتماد ایوان میں کل گڑ بڑ اور ہنگامہ آرائی کا سبب بن سکتی ہے ۔