واشنگٹن۔ 19 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام) اسپین کی پارلیمان نے بھاری اکثریت سے فلسطینی مملکت کو تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کرلی ہے۔کل منظورہ قرارداد کی حیثیت علامتی ہے جس میں ارکانِ پارلیمان نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ذریعے تنازعہ حل ہونے کی صورت میں فلسطینی مملکت کو تسلیم کرلے۔ گوکہ اسپینی حکومت اس قرارداد پر عمل درآمد کی پابند نہیں لیکن اس کے باوجود ایک اور یورپی ملک کی پارلیمان کی جانب سے فلسطینی مملکت کے حق میں قرارداد کی منظوری کو تجزیہ کار یورپ میں فلسطینیوں کیلئے بڑھتی ہوئی ہمدردی اور اسرائیل کے خلاف ابھرتے ہوئے عوامی جذبات کا اظہار قرار دے رہے ہیں۔حالیہ ہفتوں کے دوران اسپین فلسطینیوں کے حق میں قرارداد منظور کرنے والا یورپ کا چوتھا ملک ہے۔ اس سلسلے کا آغاز گزشتہ ماہ سویڈن سے ہوا تھا جہاں بائیں بازو کی جماعت نے اقتدار سنبھالنے کے چند دن بعد ہی فلسطینی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سویڈن کے اس اقدام پر اسرائیل نے بطور احتجاج اسٹاکہوم سے اپنا سفیر واپس بلالیا تھا۔بعد ازاں برطانیہ اور پھر آئرلینڈ کے قانون سازوں نے بھی علامتی قراردادیں منظور کرکے اپنی اپنی حکومتوں سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔