چیف منسٹر اور حکومت کے خلاف مسلسل احتجاج، ایوان کی کارروائی ، دو مرتبہ ملتوی
حیدرآباد۔/18نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج کانگریس کے 13ارکان اسمبلی کو ایک دن کیلئے اس وقت معطل کردیا گیا جب وہ کانگریس ارکان کے ٹی آر ایس میں انحراف کے مسئلہ پر حکومت سے جواب دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ کانگریس ارکان نے آج صبح سے ہی ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کردی، چیف منسٹر اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ایوان میں شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے ۔ کانگریس اور ٹی آر ایس ارکان میں نعرہ بازی کا تبادلہ ہوا۔ کانگریس ارکان کے مسلسل احتجاج کے سبب اسپیکر مدھو سدن چاری کو دو مرتبہ ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ کارروائی جب تیسری مرتبہ شروع ہوئی تو کانگریس ارکان اپنے مطالبہ پر قائم رہے اور اسپیکر کے پوڈیم کے پاس پہنچ کر دھرنا منظم کیا۔ وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے 13 ارکان کی معطلی کی قرارداد پیش کی جسے ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی کو معطل نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے پارٹی ارکان کی معطلی کے خلاف بطور احتجاج واک آؤٹ کردیا۔ معطلی کے باوجود کانگریس کے ارکان ایوان میں احتجاج اور نعرہ بازی کرتے رہے جس پر مارشلس کو طلب کرتے ہوئے انہیں ایوان سے باہر لے جایا گیا۔ تین ارکان اسمبلی کو مارشلس نے ہاتھوں پر اٹھا کر ایوان کے باہر چھوڑا۔ قبل ازیں آج صبح جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی کانگریس کے ارکان نے قائد اپوزیشن جانا ریڈی کی قیادت میں احتجاج شروع کیا۔ ارکان کے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے جن پر ’ جمہوریت بچاؤ‘ اور’ سی ایم ڈاون ڈاون ‘ جیسے نعرے درج تھے۔ کانگریسی ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے کہا کہ پارٹی ارکان کے انحراف کے مسئلہ پر انہوں نے تحریک التواء پیش کی ہے جس پر وہ حکومت سے جواب چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسپیکر سے مانگ کی کہ وہ منحرف کانگریسی ارکان اسمبلی کے بارے میں جلد فیصلہ کریں۔ جانا ریڈی نے کہا کہ اگر انحراف کا یہی طریقہ کار جاری رہا تو آنے والی حکومتیں بھی اسی روایت پر عمل کریں گی۔ کانگریس ارکان کے احتجاج پر اسپیکر نے پہلی مرتبہ 10منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کی۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد جب دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو کانگریس ارکان اسپیکر کے پوڈیم کے پاس پہنچ گئے۔ اسپیکر کی جانب سے ایوان میں نظم کی بحالی اور حکومت کی جانب سے بجٹ پر مباحث کے آغاز کی اپیلوں کا احتجاجی ارکان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وزیر فینانس ای راجندر نے کانگریس ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ انحراف کے مسئلہ پر اسپیکر سے نمائندگی کا اختیار رکھتے ہیں اور اسپیکر ہی اس مسئلہ پر کوئی فیصلہ کریں گے۔ انحراف کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ راجندر نے کہا کہ اسمبلی میں عوامی مسائل پر مباحث سے کانگریس کو کوئی دلچسپی نہیں۔ ایوان میں شوروغل کے دوران اسپیکر نے کارروائی کو دوبارہ دس منٹ کیلئے ملتوی کردیا۔ تقریباً نصف گھنٹہ بعد تیسری مرتبہ جب کارروائی شروع ہوئی تو کانگریس کے ارکان کا احتجاج جاری رہا جس پر ہریش راؤ نے ایک دن کی معطلی کیلئے قرار داد پیش کی۔ معطل کئے گئے 13ارکان میں سمپت کمار، اتم کمار ریڈی، آر وینکٹ ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، ٹی جیون ریڈی، کرشنا ریڈی، پدماوتی ریڈی، رام موہن ریڈی، ملو بھٹی وکرامارکا، ڈی کے ارونا، پواڈا اجئے اور بھاسکر راؤ شامل ہیں۔