عنبر پیٹ میں گورنمنٹ اسکول کی تعمیر
محکمہ لیبر کے فنڈ کی غیر قانونی منتقلی
عوامی نمائندوں کی سیکورٹی
آئی ایم جی بھارتا کو اراضی الاٹمنٹ
حیدرآباد۔/27نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر تعلیم جگدیش ریڈی نے بتایا کہ باپو نگر عنبر پیٹ میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی تعمیر کیلئے محکمہ مال کی جانب سے اراضی الاٹ کی جائے گی۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جی کشن ریڈی کے سوال پر وزیر تعلیم نے کہا کہ اسکول کی عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں 8000 مربع گز اراضی کی منظوری کے فیصلہ سے سکریٹری ریونیو ڈپارٹمنٹ نے 24ستمبر 2009ء کو دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس اراضی کو دوبارہ اسکول کی تعمیر کیلئے حوالہ کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ محکمہ مال کے عہدیدار اراضی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیر تعلیم کے مطابق محکمہ مال کی جانب سے اراضی کے الاٹمنٹ کے فوری بعد مقررہ قواعد کے مطابق اسکول کی مستقل عمارت تعمیر کی جائے گی۔
وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ لیبر ڈپارٹمنٹ آندھرا پردیش کے عہدیداروں نے تلنگانہ بلڈنگ کنسٹرکشن اور دیگر ورکرس ویلفیر بورڈ کی رقم کو جان بوجھ کر منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ وی سرینواس گوڑ اور دیگر ارکان کے سوال پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ 250کروڑ روپئے غیر قانونی طور پر منتقل کئے گئے تھے۔ حکومت نے اس رقم کی بازیابی کیلئے فوری کارروائی کی ہے۔ اس سلسلہ میں پولیس میں شکایت درج کی گئی۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ چیف سکریٹری نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رقم کا تحفظ کیا ہے اور تمام بینکوں میں موجود رقم کو منجمد کردیا گیا۔
وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے عوامی نمائندوں کی سیکورٹی سے دستبرداری اختیار کرنے کی تردید کی ہے۔ بھٹی وکرامارکا کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ سابق ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی و کونسل کی سیکورٹی کو واپس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی چونکہ سابق منتخب عوامی نمائندے کسی فرد یا گروپ کی جانب سے مخصوص خطرہ کی زد میں نہیں ہیں اسی لئے سیکورٹی سے دستبرداری اختیار کی گئی۔ انہوں نے غیر سماجی عناصر کی جانب سے عوامی نمائندوں کو دھمکیاں دیئے جانے کی تردید کی اور کہا کہ ابھی تک اس طرح کے واقعات حکومت کے علم میں نہیں آئے ہیں۔
چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ 2004ء میں حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں 400 ایکر اراضی ریاست میں اسپورٹس کے فروغ کیلئے آئی ایم جی بھارتا اکیڈیمی کو الاٹ کی گئی۔ جوپلی کرشنا راؤ اور دیگر ارکان کے سوال پر چیف منسٹر نے بتایا کہ شیر لنگم پلی منڈل کے سروے نمبر 25میں 400ایکر اراضی آئی ایم جی بھارتا کے نام پر رجسٹرڈ کی گئی اور 50ہزار روپئے فی ایکر کے حساب سے 2کروڑ روپئے حاصل کئے گئے۔ 21جون 2004 کو سابق میں کئے گئے اہم پراجکٹس کے بارے میں اراضی الاٹمنٹس کے فیصلوں کا جائزہ لینے گروپ آف منسٹرس تشکیل دیا گیا۔ وزراء کے گروپ نے سفارش کی کہ آئی جی ایم بھارتا اکیڈیمی معاہدے بیع کے وقت موجود اراضی کی مارکٹ ویلیو کے مطابق رقم ادا کرے یا پھر یہ پراجکٹ حکومت آندھرا پردیش کے ساتھ مساوی اشتراک پر مکمل کیا جائے۔ گروپ آف منسٹرس نے سرکاری اراضی کے الاٹمنٹ کی منسوخی کی بھی سفارش کی۔ حکومت نے محکمہ قانون اور ایڈوکیٹ جنرل کی رائے کے مطابق دو سینئر آئی اے ایس عہدیداروں کا تقرر کیا تاکہ اس معاملہ سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیں۔ پرنسپال سکریٹری پلاننگ اور پرنسپل سکریٹری انڈسٹریز پر مشتمل کمیٹی نے عوامی مفاد میں اس معاملت کو منسوخ کرنے کی رائے دی۔ حکومت نے 2006ء میں آرڈیننس جاری کرتے ہوئے اراضی کو حاصل کرلیا۔ آئی ایم جی بھارتا اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع ہوا ہے اور یہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے۔