اسمبلی میں علی الحساب بجٹ کی پیشکشی

حیدرآباد۔/10 فروری(سیاست نیوز) کرن کمار ریڈی حکومت نے آج ایوان اسمبلی میں مالی سال 2014-15 کے لئے علیٰ الحساب موازنہ پیش کیا جو غالباً متحدہ آندھرا پردیش ریاست کا آخری موازنہ ہوگا۔ وزیر فینانس آنم رام نارائن ریڈی نے474 کروڑ روپے کی فاضل آمدنی کے ساتھ 1,83,129 کروڑ روپے کا مجموعی موازنہ پیش کیا۔ ریاستی اسمبلی کی تاریخ کی مختصر ترین موازنہ تقریر میں وزیر فینانس مسٹر آنم رام نارائن ریڈی نے غیر منصوبہ جاتی مصارف کا تخمینہ 1,15,179 کروڑ روپے اور منصوبہ جاتی مصارف کا تخمینہ 67,950 کروڑ روپے رکھا ہے۔ تخمینی فاضل آمدنی 474 کروڑ روپے اور مالیاتی خسارہ کا تخمینہ 25,402 کروڑ روپے کیا ہے جو مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کا 2.60% ہے۔ مسٹر رام نارائن نے کہا کہ 2012-13 کے قطعی حسابات 1,1023 کروڑ روپے فاضل آمدنی کا اشارہ کرتے ہیں جبکہ مالیاتی خسارہ کا تخمینہ 24,487 کروڑ روپے کیا گیا ہے۔ وزیر فینانس کی تحریری موازنہ تقریر میں کہا گیا کہ محروم طبقات کی تعلیم تک رسائی کو استحکام پر توجہ مرکوز کرنے حکومت کی پالیسی کے خطوط میں حکومت اقلیتوں کی تعلیم کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

حکومت‘ حیدرآباد، کڑپہ اور پیلورو میں اقلیتوں کے لئے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لئے تین ضلعی سطح کے کامل اقامتی کوچنگ مراکز قائم کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ حکومت نے نوتشکیل شدہ کمشنریٹ اقلیتی بہبود کے لئے ریاستی ہیڈکوارٹرس اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس سطحوں پر 69 جائیدادوں کی منظوری دی ہے۔ وزیر فینانس کی تقریر کے دوران تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ارکان نے خلل پیدا کیا اور ایوان کے وسط میں گروپس کی شکل میں پہنچ گئے جبکہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزراء نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں رخنے ڈالنے پر چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی کے خلاف بطور احتجاج اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے تلگو دیشم پارٹی کے ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے کچھ وقت کے لئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ وزیر فینانس نے احتجاج کے پیش نظر اپنی تقریرکو مختصر کردیا اور کہا کہ تصور کیا جائے کہ ان کی تقریر پڑھ لی گئی ہے۔ قبل ازیں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزراء نے علی الحساب موازنہ کی منظوری کے لئے طلب کردہ کابینی اجلاس کا مقاطعہ کیا۔