اسمبلی اور کونسل کے اجلاس سے گورنر کا خطاب… جھلکیاں

حیدرآباد ۔ 11 جون ۔ (سیاست نیوز ) ای ایس ایل نرسمہن کو اس بات کا اعزاز حاصل ہوا کہ انھوں نے ملک کی نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کے دونوں ایوان مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ۔ ریاست کی تشکیل کے بعد دونوں ایوانوں کا پہلی مرتبہ اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ ای ایس ایل نرسمہن چونکہ تلنگانہ کے ساتھ آندھراپردیش کے بھی گورنر ہیں وہ آندھراپردیش اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کرنے کا اعزاز حاصل کریں گے ۔
l تلنگانہ کے لئے مختص کردہ اسمبلی کی عمارت میں پہلی مرتبہ دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ۔ اس سے قبل اسمبلی کی قدیم عمارت میں مشترکہ اجلاس منعقد ہوتے رہے جس سے گورنر خطاب کرتے رہے، چونکہ سابقہ قدیم عمارت کو آندھراپردیش اسمبلی کیلئے مختص کیا گیا ہے لہذا نئی اسمبلی کی عمارت میں ہی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ چونکہ اس ایوان میں نشستوں کی تعداد 295 ہے لہذا کونسل کے ارکان کو اسی ایوان میں نشستیں بآسانی حاصل ہوگئیں۔ مشترکہ اجلاس کے باوجود ایوان کی عقبی نشستیں خالی تھیں۔

l اجلاس کے موقع پر اسمبلی اور کونسل کے ارکان میں جذباتی ملاقاتیں دیکھی گئیں اور کونسل کے ارکان اسمبلی کے نومنتخبہ ارکان سے بغل گیر ہوکر مبارکباد پیش کررہے تھے ۔ انتخابی نتائج کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ایوانوں کے ارکان کا سامنا ہوا ۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ارکان بشمول وزراء کو ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے دیکھا گیا۔
l اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے اگرچہ گورنر نے سابق میں بھی خطاب کیا لیکن آج کی صورتحال مختلف تھی ۔ گزشتہ سال گورنر نے متحدہ آندھراپردیش کے دونوں ایوانوں کے ارکان سے خطاب کیا تھا لیکن آج جب وہ تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کے ارکان سے خطاب کے لئے پہونچے تو اُن کا استقبال اُن قائدین نے کیا جنھوں نے گزشتہ سال اُن کے خطبہ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ٹی آر ایس کے برسراقتدار آنے کے سبب ہریش راؤ کو وزیر اُمور مقننہ مقرر کیا گیا اور انھوں نے اسمبلی پہونچنے پر گورنر کا استقبال کیا جبکہ گزشتہ سال اُن کی قیادت میں ٹی آر ایس ارکان نے خطبہ کا بائیکاٹ کیا تھا۔

l گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے خطبہ کے آغاز اور اختتام پر چند سطریں تلگو زبان میں ادا کی جبکہ باقی خطبہ انھوں نے انگریزی میں پڑھا۔ ابتداء میں انھوں نے نئی ریاست تلنگانہ کے دونوں ایوانوں سے اولین خطاب پر مسرت کا اظہار کیا ۔انھوں نے نومنتخبہ ارکان اور کونسل کے ارکان کو مبارکباد پیش کی ۔ گورنر نے کہا کہ آج کا دن ایک یادگار دن ہے ۔ اُسی طرح خطبہ کے اختتام پر انھوں نے دستور ہند کی رو سے تلنگانہ میں مقیم ہر شہری کیلئے کسی تعصب کے بغیر مساویانہ سلوک اور مکمل تحفظ کا یقین دلایا۔ گورنر نے تمام شہریوں کو تحفظ کی جو بات کہی وہ اُن کے تحریری خطبہ میں شامل نہیں تھی ۔

l 21 صفحات پر مشتمل انگریزی خطبہ کو گورنر نے 20 منٹ میں مکمل کرلیا اور یہ حالیہ برسوں میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کی مختصر ترین کارروائی تھی ۔
l گورنر کے استقبال کیلئے ایوان میں سرخ قالین بچھائی گئی تھی ۔ ٹھیک 10:58 منٹ پر ای ایس ایل نرسمہن ایوان میں داخل ہوئے ، اُن کے ہمراہ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ ، اسپیکر اسمبلی مدھو سدھن چاری اور صدرنشین قانون ساز کونسل این ودیا ساگر موجود تھے ۔ گورنر کی آمد کے ساتھ ہی قومی ترانہ بجایا گیا ۔

l دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے سبب صبح 10:30 بجے سے ہی ارکان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ ایوان میں سب سے پہلے کانگریس کے ارکان محمد علی شبیر اور چنا ریڈی داخل ہوئے اور پہلی نشستیں سنبھال لیں۔ اُن کے بعد ریاستی وزراء ہریش راؤ اور کے ٹی راما راؤ ایوان میں داخل ہوئے اور انتظامات کا جائزہ لیا۔
l ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے دونوں ایوانوں کے ارکان بالخصوص مسلم ارکان سے ملاقات کی اور ارکان نے ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کئے جانے پر اُنھیں مبارکباد پیش کی ۔ کونسل کے مسلم ارکان حافظ پیر شبیر احمد ، فاروق حسین ( کانگریس ) اور محمد سلیم (تلگودیشم) بھی اجلاس میں شریک تھے۔
l گورنرکے خطبہ کے اختتام کے ساتھ ہی تلگودیشم فلور لیڈر ای دیاکر راؤ اور دوسروں نے بلند آواز سے ریمارک کیا کہ گورنر کے خطبہ میں شامل کئے گئے اُمور پر عمل آوری کی ضرورت ہے ۔ تلگودیشم ارکان کے ان ریمارکس کے درمیان گورنر ارکان کو نمستے کرتے ہوئے روانہ ہوگئے ۔
l گورنر کے خطبہ کی کاپیاں تلگو اور انگریزی کے علاوہ اردو زبان میں بھی ارکان کو فراہم کی گئیں۔