نئی دہلی ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مرکزی وزیر شہری ترقیات مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے آج اسمارٹ سٹی پراجکٹ میں خانگی شراکت داری کی ضرورت کو اجاگر کیا اور کہا کہ بڑے پیمانے پر وسائل اکھٹا کرنے کے لیے یہ ناگزیر ہے ۔ انڈین چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام اسمارٹ سٹی کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سٹی کی تعمیر ریاستوں ، مجالس مقامی اور کارپوریٹ شعبہ کے لیے ایک چیلنج ہے ۔ اور یہ ایک عظیم موقع بھی فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے گذشتہ بجٹ میں ملک گیر سطح پر 100 اسمارٹ سٹیز ( شہروں ) کو مرحلہ وار ترقی دینے کے لیے 500 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سٹی کی تعمیر سے آمد و رفت کی سہولت فراہمی روزگار اور سکونت اختیار کرنے کے لیے بنیادی ضروریات کی تکمیل ہوگی جس کے لیے معیاری اداروں ، فزیکل ، سوشیل اور معاشی انفراسٹرکچر ناگزیر ہے ۔ مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ خانگی سرمایہ کاری کے بغیر اسمارٹ سٹی کی ترقی ممکن نہیں ہے ۔
انہوں نے ہندوستان اور غیر ملکی صنعتکاروں سے اپیل کی کہ اسمارٹ سٹی پراجکٹ میں شامل ہوجائیں جس میں عظیم مواقع دستیاب ہیں ۔ جب کہ مرکزی وزارت شہری ترقیات اسمارٹ سٹی پراجکٹ جو تصور پیش کیا ہے اس میں ای گورننس ، ان لائن خدمات کی فراہمی اور اطلاعات عامہ ، بلا رکاوٹ پانی اور برقی کی سربراہی موثر ٹرانسپورٹ نظام ، معیاری صحت کی دیکھ بھال اور تعلیمی نظام شامل ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سٹی کے سماجی اور معاشی مقاصد میں غریبوں تک رسانی ، سڑکوں ، اراضیات اور نئے مواقع میں عوام کو مساوی حق دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ پراجکٹ کی کامیابی کے لیے مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی وزارت گذشتہ چند ماہ سے پراجکٹ کو قطعیت دینے کے لیے رئیل اسٹیٹ اداروں ، ماہرین ، پلانرس ، آئی ٹی کمپنیوں سے مشاورت کررہی ہے اور اس خصوص میں شہری مجالس مقامی کی تربیت کے لیے ورک شاپ منعقد کئے جارہے ہیں اور اسمارٹ سٹی پراجکٹ کے پہلے مرحلہ کا بہت جلد مرکزی کابینہ میں منظوری دیدی جائے گی ۔۔