اسلام میں مساجد کا رول ، بڑی بنچ کیلئے استدعا پرسپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

نئی دہلی 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد ملکیتی تنازعہ کے مسلم گروپوں کی داخل کردہ عرضی پر اپنا حکمنامہ آج محفوظ کردیا۔ اِس عرضی کے ذریعہ اُن تاثرات کا کوئی بڑی بنچ کے ذریعہ دوبارہ جائزہ لینے کی استدعا کی گئی ہے جو 1994 ء کے فیصلے میں دیئے گئے کہ مسجد مذہب اسلام کے لئے کوئی لازمی جز نہیں ہے۔ ایم صدیق جو ایودھیا کیس کے حقیقی داعیان میں سے ہیں جن کا انتقال ہوچکا اور اُن کی نمائندگی اب اُن کے قانونی وارث کررہے ہیں، اُنھوں نے 1994 ء کے فیصلے کی بعض باتوں پر تنقید کی تھی۔ ایم اسماعیل فاروقی کے کیس میں یہ کہا گیا تھا کہ مسجد اسلام پر عمل کرنے والوں کے لئے کوئی ضروری حصہ نہیں ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر پر مشتمل خصوصی بنچ کے روبرو مسلم گروپوں نے دلیل پیش کی ہے کہ اُس فیصلے میں فاضل عدالت نے کئی عمومی تاثرات ظاہر کئے جن پر 5 ججوں کی بنچ کی جانب سے نظرثانی کی ضرورت ہے کیوں کہ اِس کا بابری مسجد ۔ رام مندر تنازعہ سے متعلق کیس پر اثر پڑا ہے اور آگے بھی یہ باتیں اثرانداز ہوں گی۔ بنچ نے کہاکہ وہ اپنا آرڈر محفوظ رکھتے ہیں اور فریقوں کو 24 جولائی تک اپنے تحریری بیانات داخل کرنے کی ہدایت کی۔ صدیق کے قانونی نمائندہ کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے کہاکہ ایسے تاثرات کہ مساجد اسلام پر چلنے والوں کے لئے ایک ضروری عنصر نہیں ہے، فاضل عدالت نے یہ باتیں کوئی انکوائری کے بغیر کردیئے اور نہ ہی مذہبی کتب کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ دورس نتائج والا تبصرہ ہے اور اِس پر فاضل عدالت کی جانب سے ملکیتی تنازعہ کی سماعت سے قبل نظرثانی ہونی چاہئے۔ شروع میں تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا جب دھون کے قبل ازیں ریمارکس پر ایک وکیل نے اعتراض کیا۔ دھون نے کہا تھا کہ 1992 ء میں ہندو طالبان نے بابری مسجد مسمار کردی تھی۔ وکیل موصوف نے کہاکہ اِس طرح کے تبصرہ کرنے والے کو پوری ہندو برادری کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دھون نے کہاکہ بابری مسجد کا انہدام دہشت گردانہ حرکت ہوئی۔ میں میرے الفاظ واپس نہیں لوں گا۔ میں میرے الفاظ پر قائم ہوں۔