فساد کے لیے اکسانے والے اسلامی تعلیمات کے مغائر کام کررہے ہیں ، ڈاکٹر الشیخ محمد بن یحییٰ النینوی کا بیان
حیدرآباد ۔ 16 دسمبر۔ ( سیاست نیوز) اسلام کے نام پر کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کا تعلق دین متین سے نہیں ہے ۔ اسلام ایک عملی جامع مذہب ہے جس میں زندگی کے ہر نشیب و فراز کا تذکرہ اور طریقہ بتایا گیا ہے ۔ اسلام کو امن کا مذہب قرار دیا جاتا ہے اور اسلام قیام امن کیلئے جدوجہد کی تعلیم دیتا ہے ۔ ڈاکٹر الشیخ محمد بن یحییٰ الحسینی النینوی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران ان خیالات کااظہار کیا۔ انھوں نے بتایا کہ تشدد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام میں دفاع کی تعلیم دی گئی ہے لیکن تشدد پر اُکسانے والے اسلامی تعلیمات کے خلاف عمل کررہے ہیں۔ الشیخ النینوی نے بتایا کہ دنیا میں ہر قسم کے لوگ موجود ہیں اور مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے ماننے والے بھی ہیں لیکن اُن کے درمیان محبت و اُلفت کی تعلیم اسلام نے دی ہے اسی لئے فی الحال دنیا میں قیام امن کیلئے یہ ضروری ہے کہ بین مذہبی مذاکرات کے ذریعہ حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں ۔ ڈاکٹر الشیخ محمد بن یحییٰ الحسینی النینوی نے بتایا کہ تشدد کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ انھوں نے وضاحت کے ساتھ کہا کہ اسلام زبانی تشدد یعنی بدکلامی تک کی اجازت نہیں دیتا تو خوں ریزی کا تصور بھی کیا جانا درست نہیں ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ موجودہ حالات و عالمی تناظر کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے اُلجھنے کے بجائے اخوت و محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرب الٰہی کے حصول پر توجہ مرکوز کرے ۔ الشیخ النینوی نے داعش کی کارروائیوں کو غیراسلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کا کوئی مذہبی جواز نہیں ہے اسی لئے داعش کی کارروائیوں کو اسلام سے جوڑنا درست نہیں ہے ۔ ڈاکٹر الشیخ محمد بن یحییٰ الحسینی النینوی نے بتایا کہ ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ دنیا میں موجود ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب و مسلک سے تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو حقیقت میں وہ اولاد آدم ہے ۔ بین مسلکی و مذہبی مذاکرات کی تائید کرتے ہوئے النینوی نے بتایا کہ اس طرح کے مذاکرات کے ذریعہ آپسی اختلافات کو دور کیا جاسکتا ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے جب کہ ظاہری شبیہ جو مذاہب کی بن رہی ہے اُس سے مذہب کے ماننے والوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ مختلف مسلکوں کے ماننے والوں کے عقائد میں اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن ان اختلافات کی بنیاد پر جھگڑے مناسب نہیں ہے ۔ النینوی نے بتایا کہ مسلمانوں کو اختلافات سے بالاتر ہوکر متحدہ طورپر دین کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دیگر اقوام کے سامنے دین اسلام کی صحیح شبیہ پیش کرنے میں کسی قسم کی دشواریاں پیدا نہ ہونے پائے ۔ ڈاکٹر الشیخ النینوی نے اہلسنت والینٹرس اسوسی ایشن حیدرآباد کی دعوت پر دو روزہ دورہ ٔ حیدرآباد کے دوران مختلف مقامات پر خطاب عام میں حصہ لیا ۔ وہ اپنے مختصر دورۂ ہندوستان کے دوران اہلسنت والجماعت کے مختلف اجتماعات سے خطاب کریں گے ۔ انھوں نے اپنے دورۂ حیدرآباد کے دوران اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ فروعی اختلافات کو بنیاد بناکر جھگڑوں سے اجتناب کریں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ عقائد کے معاملے میں کسی قسم کی کوئی مفاہمت نہیں کی جاسکتی اور جن کے عقائد پر اختلاف ہے اُن سے اختلاف رکھا جانا چاہئے لیکن عقائد کے اختلاف کی بنیاد پر خونریزی یا جھگڑے درست نہیں ہے۔