اسلام آباد میں حکومت کے خلاف عمران خان و طاہر القادری کا سٹ ان احتجاج

اسلام آباد 16 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن لیڈر عمران خان اور تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری کے زائد از 25,000 حامی اسلام آباد میں احتجاج شروع کرچکے ہیں اور انہوں نے اعلان کیا ہے وہ اس وقت تک اپنے سٹ ان احتجاج کو ختم نہیں کرینگے جب تک وزیر اعظم نواز شریف مستعفی نہیں ہوجاتے اور پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل نہیں کیا جاتا ۔ یہ احتجاج دارالحکومت اسلام آباد کی گلیوں اور سڑکوں پر پہونچ گئے ہیں اور 15 ماہ پرانی سیویلین حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو زوال کا شکار کرنے کی کسی بھی غیر دستوری کوشش کے خلاف انتباہ کے باوجود عمران خان اور علامہ طاہر القادری نے علیحدہ سٹ ان احتجاج شروع کئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ نواز شریف مستعفی ہوجائیں اور تازہ انتخابات کا اعلان کریں۔

ان کا الزام ہے کہ گذشتہ سال ہوئے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ عمران خان نے جو تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ بھی ہیں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سٹ ان احتجاج کیلئے جارہے ہیں اور اس وقت تک واپس نہیں ہونگے جب تک نواز شریف مستعفی نہیں ہوجاتے ۔ لاہور سے اسلام اباد تک آزادی مارچ کرتے ہوئے یہاں پہونچنے والے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ آج سہ پہر تین بجے سے اس وقت تک سٹ ان احتجاج کرینگے جب تک نواز شریف مستعفی نہیں ہوجاتے ۔ خان نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ جمہوریت کو متاثر نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ملک میں کوئی جمہوریت نہیں ہے ۔ ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک نواز شریف واپس نہیں جائیں گے ۔ جب عمران خان تقریر کر رہے تھے ان کے حامی اور پارٹی کے سینئر قائدین نواز شریف کے خلاف نعرے لگا رہے تھے ۔ آج آزادی مارچ اسلام آباد پہونچنے تک راستے میں مسلسل بارش ہوتی رہی اور آج بھی اسلام آباد میں بارش کا سلسلہ جاری رہا ۔ بارش سے عمران خان کی صحت متاثر ہوگئی ہے اور انہیں بخار ہوگیا ہے ۔ وہ گذشتہ 40 گھنٹے سے سوئے نہیں ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خود قوم فیصلے کرے ۔ وہ اس وقت تک احتجاج سے دستبردار نہیں ہونگے جب تک نواز شریف مستعفی نہیں ہوجائیں گے ۔

ہم اس وزیر اعظم کو قبول نہیں کرینگے جو انتخابی دھاندلیوں سے اقتدار پر فائز ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابی دھاندلیوں کے خلاف الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع ہوئے ہیں ہم کو انصاف نہیں مل سکا تو ہمارے پاس سڑکوں پر اتر آنے کے علاوہ حصول انصاف کا کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا تھا ۔ 2013 میں ہوئے عام انتخابات میں نواز شریف کی پاری کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اس نے صوبائی اسمبلی کی 342 نشستوں میں 190 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی کو 34 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ عمران خان کا ادعا ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوئی ہیں ورنہ ان کی پارٹی کو کافی زیادہ نشستیں حاصل ہوتیں۔ اس دوران علامہ طاہر القادری کی قیادت میں پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں حامیوں کی جانب سے اسلام آباد میں سٹ ان احتجاج شروع ہوگیا ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ 17 جون کو ہوئے تشدد کے واقعات میں ان کے 14 حامیوں کے قتل کے الزام میں نواز شریف ‘ شہباز شریف اور دوسروں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا جائے ۔

علامہ طاہر القادری نے اعلان کیا ہے وہ اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کرینگے جب تک شہباز شریف اور نواز شریف کو گرفتار نہیں کرلیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز اور شہباز کو مستعفی ہونا چاہئے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اور اب پولیس کا کام ہے کہ وہ اس کی تعمیل کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کرے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں ایک قومی حکومت قائم کی جائے جو جمہوری اصلاحات کے عمل کیلئے کام کرے ۔ علامہ طاہر القادری نے مفت تعلیم ‘ صحت ‘ روزگار ‘ ہاوزنگ وغیرہ کیلئے 10 نکاتی سماجی پروگرام بھی پیش کیا ہے جو قومی حکومت کی تشکیل کے بعد نافذ کیا جائیگا ۔ حکومت پاکستان نے احتجا ج کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد میں سکیوریٹی فوج کے سپرد کردی ہے ۔