حیدرآباد ۔ 21 ۔ نومبر : ( محمد جہانگیر ) : علم انبیاء کا ورثہ ہے ، قوموں کے عروج و زوال میں علم کی اہمیت ایک مسلمہ حیثیت ہے ۔ تعلیم ایک ایسا نور ہے جس پر عمل سے زندگی پر نور اور آخرت میں کامیابی ملتی ہے ۔ کتابیں تنہائی کی دوست اور زندگی کی ویرانی کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ ’’ انٹرنیشنل اسلامک بک فیر ‘‘ سے لوگوں کی جستجو اور یہاں آمد پر سونچنے پر مجبور کردیا ۔ مختلف موضوعات پر اسلامی لٹریچر موجود ہے ۔ یہاں اسلامی تہذیب کا نہ صرف غلبہ ہے بلکہ اس تہذیب کا پر تو عام لوگوں کو بھی متاثر کردے گا ۔ انٹرنیشنل اسلامک بک فیر میں دنیا بھر سے اسلامی موضوعات پر مختلف معلومات کتابوں کی فراہمی نہ صرف اردو بلکہ انگریزی اور عربی میں بالخصوص بیروت ، ایران ، پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک سے اس کی فراہمی کے لیے انتظامات قابل مبارکباد ہیں ۔ مختلف تفاسیر قرآن مجید و احادیث مبارکہ کے علاوہ بے شمار تاریخی کتب کے ساتھ اردو ادب پر بے شمار کتابیں ، نامور شعراء کے مجموعہ کلام ( ہندو پاک ) عالمی شہرت یافتہ مصنفین کی کتابیں ، بچوں کے لیے الکٹرانک کے کھلونے بہر حال ایک سمندر ہے جسے کوزے میں بند کردیا گیا ہے ۔ یہاں آنے والے بے شمار شائقین کتب میں آج کی نوجوان نسل کی تعداد زیادہ ہے ۔ انٹرنیشنل اسلامک بک فیر میں کئی نوجوان برقعہ پوش لڑکیاں کالجوں اور یونیورسٹی کی طالبات کی کثیر تعداد بھی شامل ہے ۔کئی وزیٹر نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ یہ اردو کی بہت بڑی خدمت ہے اور اس کے ذریعہ نئے نسل میں اردو فروغ پائے گی ۔ ایک اور وزیٹر جناب وزیر خاں نے اپنے تاثر میں یہ اظہار کیا کہ ایک ہی چھت تلے اتنے سارے موضوعات پر کتابوں کو دیکھ کر خوشی اور حیرت ہوئی ۔ شرکائے نے شہریان حیدرآباد سے گذارش کی کہ وہ اس قیمتی اثاثے سے استفادہ فرمائیں ۔۔