اسرو کے سابق سربراہ مادھون نائر بی جے پی میں شامل

تھرواننتاپورم 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی ہند کی ریاستوں میں عوام کے تعلیم یافتہ ہونے کے باعث بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست اپنا اثر دکھانے سے قاصر ہے۔ بی جے پی نے بڑی مشکل سے کرناٹک جیسی جنوبی ریاست میں اقتدار حاصل کیا تھا اس کے باوجود وہ لاکھ کوششوں کے باوجود جنوب میں فرقہ پرستی کا زہر پھیلانے میں ناکام رہی۔ اپنی اس ناکامی کا بی جے پی قیادت کو شائد بہت دُکھ ہے لیکن اب بی جے پی میں جنوبی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیتیں بھی شامل ہورہی ہیں جنھیں بلاشبہ انتہائی تعلیم یافتہ کہا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں ریاست کیرالا میں انڈین اسپیس ریسرچ سنٹر (ISRO) کے سابق صدرنشین اور 4 دیگر شخصیتوں نے صدر بی جے پی امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی جن میں ٹراونکور دیوسوم بورڈ (TBB) کے صدر اور کے سی پی سی سی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن جی رمن نائر بھی شامل ہیں۔ مادھون نائر نے بی جے پی میں شمولیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کچھ عرصہ سے بی جے پی کے لئے کام کررہے تھے اور ہفتہ کو امیت شاہ نے انھیں باقاعدہ طور پر پارٹی میں شامل کیا۔ مادھون کے مطابق وہ ہندوستان کی ترقی سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی کے فلسفہ میں یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ جن دوسری ممتاز شخصیتوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ان میں ویمنس کمیشن کی سابق سربراہ ڈاکٹر پرمیلا دیوی، جے ڈی ایس ضلعی یونٹ کے نائب صدر کے دیواکرن نائر اور ملنکارا چرچ کے تھامس جان شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صدر بی جے پی امیت شاہ نے ان شخصیتوں کا شال اُّڑھاکر پارٹی میں خیرمقدم کیا۔ اس کے لئے ہوٹل تاج ووانتا تھرواننتاپورم میں ہفتہ کی شب ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ جی رمنا نائر کا کہنا تھا کہ بی جے پی سابری مالا مندر میں مخصوص عمر کی خواتین کو داخلہ کی اجازت دیئے جانے پر صحیح موقف اختیار کیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سپریم کورٹ نے اس مندر میں حیض کی صلاحیت رکھنے والی خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دی تھی جس کی ہندوتوا تنظیموں نے شدید مخالفت کی۔ قبل ازیں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے کنور میں اپنے خطاب میں ریاست کی پی وجین کی زیرقیادت ایل ڈی ایف حکومت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کا انتباہ دیا اور کہاکہ سابری مالا مندر میں خواتین کے داخلہ کے خلاف احتجاج کرنے والے ورکروں کی گرفتاری اس حکومت کو مہنگی پڑے گی۔ بی جے پی کیڈر وجین کی حکومت کو اکھاڑ پھینکے گا۔