یروشلم۔17اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو نے آج کہا کہ وہ سفارتی کامیابی کے ساتھ اپنی فوجی ناکامی کو چھپانے کیلئے حماس کو ہرگز اجازت نہیں دیں گے ۔ اگر اسرائیل کی سلامتی کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو غزہ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ دونوں جانب معاہدہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے ۔ قاہرہ میں طویل مدتی جنگ بندی کیلئے ہورہے مذاکرات کے نتائج معلق ثابت ہوں گے ۔ نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی پر توجہ دی جانی چاہیئے ۔ ایسا نہیں ہوتا ہے تو صورتحال یوں ہی برقرار رہے گی ۔ نتن یاہو نے اپنی کابینہ کے ہفتہ واری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی فوجی اور سفارتی مہم کو یکساں برقرار رکھا ہے ‘ اگر حماس سمجھتا ہے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں میں ہوجائے تو اسرائیل اپنی فوجی نقصانات کو نظرانداز کردے گا ۔ اگر حماں یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہم پر فائرنگ کرنے سے اسے رعایت یہ چھوٹ مل جائے گی تو یہ اس کی غلطی ہوگی ۔جب تک دونوں جانب امن بحال نہیں ہوتا
حماس اپنے سخت رویہ کو برقرار رکھے گا‘ اگر حماس یہ سمجھتا ہے کہ ہم اُس کی کارروائیوں پر چُپ رہیں گے اور جواب نہیں دیں گے تو یہ اُس کی غلطی ہے ۔ غزہ میں رہنے والے عسکری گروپ نے ہی اسرائیل پر راکٹ داغتے ہوئے لڑائی شروع کی تھی۔ ہماری جانب سے واضح پیام ہے کہ ہم اپنی سلامتی پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کرسکتے ۔ ہم نے اسرائیل کے خلاف تیار کی گئی دہشت گردانہ سازشوںکو ناکام بنایا ہے ۔ بری ‘ بحری اور فضائی راستوں سے دہشت گردی کارروائیوں کی کوششوں کو ناکام کیا ہے ۔ اسرائیلی لیڈر نے یہ بیان اُس وقت دیا جب مذاکرات کیلئے حلیف پارٹیوں کی جانب سے زبردست دباؤ پڑرہا ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور گڑبڑزدہ ماحول میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا ۔وزیراعظم اسرائیل نے کہا کہ ہمارے عوام مضبوط ارادوں کے ساتھ ڈٹے رہنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔ گذشتہ چند ہفتوں سے ہمارے سپاہیوں نے اور ہمارے شہریوں نے ملکر اپنے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ۔