اسرائیل و فلسطین کا 72 گھنٹوں کی تازہ جنگ بندی سے اتفاق

یروشلم 10 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل اور فلسطین نے آج 72 گھنٹوں کی نئی جنگ بندی کی مصر کی تجویز سے اتفاق کرلیا ہے جو عالمی معیار وقت کے مطابق رات 9 بجے سے نافذ ہوئی ہے ۔ دونوں فریقین کے عہدیداروں نے یہ بات بتائی ہے ۔ اسرائیل کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اسرایل نے مصر کی تجویز سے اتفاق کرلیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مصالحت کار پیر کو قاہرہ واپس ہونگے تاکہ فلسطینی وفد کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کرسکیں جس میں مستقل جنگ بندی کے امکانات کا جائزہ لیا جائیگا ۔ اسرائیل کے مصالحت کار سابقہ تین روزہ جنگ بندی کے خاتمہ کے بعد جمعہ کو وطن واپس ہوگئے تھے جو ایک ماہ طویل اسرائیلی حملوں اور وحشتناک بمباری کے بعد نافذ ہوئی تھی ۔ حماس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فلسطینی گروپس نے بھی 72 گھنٹوں کی جنگ بندی کی مصر کی تجویز کو قبول کرلیا ہے اور قاہرہ میں مستقل جنگ بندی کیلئے بات چیت جاری رہے گی ۔ مصر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں دونوں ہی فریقین سے کہا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بالواسطہ بات چیت کا فوری احیاء عمل میں لائیں اور ایک جامع اور دیرپا جنگ بندی معاہدہ کی سمت پیشرفت کریں۔ قبل ازیں اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل لڑائی کے دوران جنگ بندی کی بات چیت نہیں کریگا ۔

انہوں نے انتباہ دیا تھا کہ اگر حماس کے راکٹ حملے جاری رہتے ہیں تو اسرائیل غزہ میں اپنی کارروائیوں میں وسعت پیدا کریگا ۔ حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور مصر غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ کرے اور غزہ بندرگاہ کو کھول دیا جائے ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر اسی وقت بات چیت ہوسکتی ہے جب فلسطین کے ساتھ مستقل جنگ بندی نافذ ہوجائے ۔ علاوہ ازیں آج دن بھر اسرائیل کے حملے اور فضائی بمباری جاری رہی ۔ اسرائیل نے کئی مقامات پر حملے اور شلباری کی ہے جس کے نتیجہ میں کم از کم 15 فلسطینی جاں بحق ہوگئے جن میں ایک 14 سالہ لڑکا اور ایک خاتون شامل ہے ۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ گذشتہ تین دن سے یہ کارروائیاں جاری ہیں جب جنگ بندی ختم ہوئی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے آج تقریبا 150 مقامات پر حملے کئے ہیں جن میں 15 افراد ہلاک ہوئے ۔ جبکہ فلسطینی گروپ حماس کی جانب سے بھی اسرائیل پر کم از کم 100 راکٹس داغے جانے کی اطلاع ہے ۔ کل رات میں بھی اسرائیل نے تقریبا 20 فضائی حملے کئے تھے ۔

کہا گیا ہے کہ غزہ کی نازک صورتحال اور اسرائیل کی وحشتناک بمباری کے بعد مغربی کنارہ میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہاں احتجاجیوں کا اسرائیلی افواج کے ساتھ ٹکراؤ ہوا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جنوبی مغربی کنارہ میں ایک 11 سالہ فلسطینی لڑکے کو اسرائیلی افواج نے ایک پناہ گزین کیمپ میں گولی مار کر ہلاک کردیا ہے ۔ گذشتہ ایک ماہ سے جاری اسرائیلی حملوں میں 2000 کے قریبی فلسطینی باشندے جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں اکثریت معصوم اور کمسن بچوں کی ہے ۔ اسرائیل دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے نام پر یہ حملے کر رہا ہے ۔حماس کی جانب سے اسرائیل پر کئے گئے راکٹ حملوں میں جملہ 67 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 64 فوجی شامل ہیں۔ دنیا بھر میں اسرائیل کے ان جارحانہ اور وحشتناک حملوں کی سخت مذمت کی جا رہی ہے لیکن امریکہ ‘ برطانیہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے ان کارروائیوں کو رکوانے کی بجائے ان کا جواز پیش کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔