ارکان کے اختیارات پر وقف بورڈ اجلاس میں گرماگرم مباحث

شاہ نواز قاسم کا دوٹوک جواب، مداخلت کا کسی کو حق نہیں، ہر کام وقف ایکٹ کے تحت ہوگا
حیدرآباد۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ارکان کے اختیارات کے مسئلہ پر گرماگرم مباحث ہوئے۔ ارکان نے فائیلوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں ان کی رائے حاصل کرنے یا ان کی سفارش قبول کرنے پر زور دیا تاہم چیف ایگزیکٹیو آفیسر شاہ نواز قاسم آئی پی ایس نے واضح کردیا کہ فائیلوں کی یکسوئی میں کسی کو مداخلت کا اختیار نہیں اور وہ کوئی بھی کام وقف ایکٹ کے مطابق ہی انجام دیںگے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بورڈ کے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی ارکان نے انہیں اہمیت نہ دیئے جانے کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف معاملات میں ارکان سے مشاورت کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں صدرنشین کے بعد ارکان اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انہیں نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ ارکان کی یہ بھی شکایت تھی کہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ میں زیادہ وقت نہیں دے رہے ہیں۔ دیگر مصروفیات کے سبب وہ ڈائرکٹر آفس سے وقف بورڈ کے امور انجام دے رہے ہیں۔ ارکان کا کہنا تھا کہ کسی معاملہ میں سفارش یا نمائندگی کے لیے وہ کس سے رجوع ہوں؟ شاہ نواز قاسم نے کہا کہ ارکان کو نمائندگی یا سفارش کا حق ضرور حاصل ہے لیکن ہر کسی کی حد قائم ہونی چاہئے۔ ارکان اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر دونوں کے حدود وقف ایکٹ کے تحت متعین ہوچکے ہیں۔ ایک مرحلہ پر ارکان نے یہاں تک کہہ دیا کہ وقف بورڈ ایک مذہبی ادارہ ہے اور عوام سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں کی کارکردگی کا انداز مختلف ہونا چاہئے۔ پولیس کی طرح وقف بورڈ میں کارکردگی سے مسائل پیدا ہوں گے۔ شاہ نواز قاسم سینئر پولیس عہدیدار ہیں، انہوں نے ارکان کے اس ریمارک کو بھانپ لیا اور کہا کہ وہ پولیس عہدیدار ضرور ہیں لیکن وقف بورڈ میں کوئی بھی کام اور اصلاحات کے سلسلہ میں کسی دبائو کا شکار نہیں ہوں گے۔ کوئی بھی کام وقف قواعد کے عین مطابق ہوگا۔ دونوں جانب سے گرما گرم مباحث کو دیکھتے ہوئے صدرنشین اور دیگر ارکان نے مداخلت کی اور معاملہ کو ایجنڈے کی جانب موڑ دیا۔صدرنشین وقف بورڈ نے وقف بورڈ میں ورک کلچر کے نفاذ کے لیے شاہ نواز قاسم کی شروع کردہ اصلاحات کی تائید کی۔ بیشتر ارکان نے شاہ نواز قاسم کی تائید کی اور کہا کہ وقف بورڈ کو بہتر بنانے کے لیے ان کی جانب سے شروع کردہ اقدامات قابل ستائش ہیں۔ بورڈ کا مطلب صرف صدرنشین نہیں بلکہ ارکان، چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ملازمین چاروں ستون ہیں۔ تمام کی بہتر کارکردگی اور یکساں حصہ داری کے ذریعہ بورڈ کی حالت میں سدھار لایا جاسکتا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے متولیوں اور منیجنگ کمیٹیوں کی تشکیل کے سلسلہ میں پروفارما تیار کیا جس کا جائزہ لینے کے لیے بورڈ کی ذیلی کمیٹیوں سے رجوع کیا گیا ہے۔ اسی دوران شاہ نواز قاسم نے 10 دن کی رخصت حاصل کرلی ہے اور وہ 5 مئی کو رجوع بکار ہوں گے۔