اروند کجریوال اور نجیب جنگ کی صدرجمہوریہ سے ملاقات

نئی دہلی ۔ 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر نئی دہلی اروند کجریوال اور لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے آج اپنی جنگ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی تک پہنچا دی اور ایک دوسرے پر دستورکی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ اس طرح انہوں نے ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت کا بھی الزام عائد کیا۔ چند گھنٹے قبل کجریوال نے صدرجمہوریہ سے ملاقات کی تھی۔ نجیب جنگ نے تبدیل ہوتے ہوئے حالات کے پیش نظر پرنب مکرجی سے ملاقات کرکے انہیں جاریہ صف آرائی کے بارے میں صدرجمہوریہ کو واقف کروایا تھا۔ نجیب جنگ نے سرکاری عہدیداروں کے تقررات کے بارے میں حکومت دہلی کے ساتھ تصادم کی تفصیلات بیان کیں۔ ذرائع کے بموجب انہوں نے ادعا کیا کہ یہ دہلی میں دستوری بحران جیسی صورتحال ہے۔

لیفٹننٹ گورنر نے یہ ادعا کیا کہ انہیں سرکاری عہدیداروں کے تقرر اور تبادلہ کا اختیار حاصل ہے۔ ان کی کوئی بھی کارروائی ’’غیردستوری‘‘ نہیں تھی جیسا کہ عاپ حکومت کی جانب سے ادعا کیا جارہا ہے۔ کجریوال جنہوں نے کل صدرجمہوریہ سے ملاقات کا وقت طلب کیا تھا، آج پرنب مکرجی سے ملاقات کی۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا بھی تھے جنہوں نے کہا کہ لیفٹننٹ گورنر ایسا رویہ اختیار کررہے ہیں جیسے کہ قومی دارالحکومت میں صدر راج نافذ ہو اور وہاں کوئی منتخبہ حکومت موجود نہ ہو حالانکہ جمہوری طور پر منتخبہ حکومت موجود ہے۔ وہ (لیفٹننٹ گورنر) چیف منسٹر اور ریاستی وزراء کو نظرانداز کرتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایات جاری کررہے ہیں۔ وہ انہیں دھمکیاں بھی دے رہے ہیں کہ اگر وہ احکام کی تعمیل نہ کریں تو ان کے تبادلہ کردیئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ یہ جمہوریت کیلئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔

صدرجمہوریہ سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منیش سیسوڈیا نے کہا کہ وہ صدرجمہوریہ سے کہہ چکے ہیں کہ وہ لیفٹننٹ گورنر کے کارگذار چیف سکریٹری کے تقرر کے فیصلے سے ہم سے مشاورت کے بغیر بھی اتفاق کرتے رہیں حالانکہ یہ بھی یعنی عہدیداروں کا منتخبہ حکومت کو نظرانداز کرتے ہوئے سرکاری عہدیداروں کے تقرر کی کارروائی ہے۔ وہ سکریٹریوں کے تقررات میں بھی مداخلت کررہے ہیں اور انہیں راست احکام دے رہے ہیں۔ چنانچہ جمہوریت کہاں ہے؟ قبل ازیں دن میں لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ سے بھی اس مسئلہ پر گفتگو کی تھی اور انہیں عاپ حکومت کے ساتھ صف آرائی کے بارے میں واقف کروایا تھا۔ شکنتلا گیملن کے بطور چیف سکریٹری دہلی تقرر پر تنازعہ ایک بھرپور جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے جو عاپ حکومت اور لیفٹننٹ گورنر کے درمیان شروع ہوگئی ہے۔ کجریوال نے نجیب جنگ پر الزام عائد کیا ہیکہ لیفٹننٹ گورنر انتظامیہ پر قبضہ کرنا چاہئے حالانکہ کجریوال نے تقرر کی سخت مخالفت کی تھی۔ نجیب جنگ نے شکنتلا گیملن کو کارگذار چیف سکریٹری مقرر کردیا تھا۔ پرنب مکرجی سے ملاقات کو ’’اچھی‘‘ قرار دیتے ہوئے منیش سیسوڈیا نے کہا کہ ہم نے صدرجمہوریہ سے درخواست کی کہ لیفٹننٹ گورنر سے خواہش کریں کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں ایسا نہ کریں۔ صدرجمہوریہ نے پوری توجہ سے ان کی بات سنی ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدرجمہوریہ معاملہ کا جائزہ لیں گے۔