لازمی اردو جاننے کی شرط سے انحراف، سفارشات پر تقررات، کئی مقدمات ہائی کورٹ میں زیر دوران
حیدرآباد۔/17اپریل، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تقررات کے سلسلہ میں کی گئی صریح بے قاعدگیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقررات کے سلسلہ میں ٹیچنگ اسٹاف کیلئے اردو سے لازمی واقفیت کی شرط کو نظراندازکرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تقررات کئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ٹیچنگ اسٹاف کے جو تقررات عمل میں لائے گئے ان میں 200افراد ایسے ہیں جو اردو سے نابلد ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے اسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر، اسسٹنٹ ڈائرکٹرس کی جو تفصیلات سیاست کو حاصل ہوئی ہیں ان میں 35سے زائد ایسے افراد ہیں جو یقینی طور پر اردو سے ناواقف ہیں لیکن اس طرح کے افراد کے 2004 سے تقررات جاری ہیں۔ یونیورسٹی کے قواعد کے مطابق ٹیچنگ اسٹاف کیلئے اردو کا جاننا ضروری ہے جن میں اردو پڑھنا اور لکھنا لازمی ہے کیونکہ انہیں طلبہ کو اردو میں ہی لکچر دینا ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کے حکام تمام قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیراردو داں افراد کا تقرر کیا اور اردو زبان اور یونیورسٹی سے ناانصافی کے مرتکب ہوئے۔ تقررات کے سلسلہ میں موجودہ وائس چانسلر نے گزشتہ دو وائس چانسلرس کے تمام ریکارڈس کو توڑ دیا اور زیادہ سے زیادہ اور قواعد کے برخلاف تقررات عمل میں لائے۔ اس بارے میں جب کبھی کسی نے آواز اُٹھائی تو ان کے خلاف کارروائی کی گئی یا پھر ہراساں کرتے ہوئے انہیں دبانے کی کوشش کی گئی۔ یونیورسٹی کے تقررات میں قواعدکی خلاف ورزی کے علاوہ اقرباء پروری اور علاقائی عصبیت کی بھی کئی واضح مثالیں منظر عام پر آئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تقررات میں بے قاعدگیوں کے کئی معاملات ہائی کورٹ میں زیر دوران ہیں۔ یونیورسٹی نے اپنی ان بے قاعدگیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے زیادہ تر کورسیس فاصلاتی تعلیم کے رکھے ہیں تاکہ نااہل افراد کے تقرر کو بچایا جاسکے۔ کسی بھی یونیورسٹی کیلئے کیمپس ایجوکیشن اور ریگولر کلاسیس کی تعلیم ضروری ہے لیکن اردو کے نام پر قائم کی گئی قومی یونیورسٹی صرف فاصلاتی تعلیم تک محدود ہوچکی ہے۔ تنظیم جدوجہد اردو کے قائد پروفیسر ایم اے انصاری نے کہا کہ وہ بے قاعدگیوں کی تفصیلات پر مشتمل یادداشت شواہد کے ساتھ یونیورسٹی کے وزیٹر صدر جمہوریہ پرنب مکرجی، چانسلر ظفر سریش والا اور مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کو روانہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے اردو یونیورسٹی کی بے قاعدگیوں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی ایسے پروفیسرس اور دیگر ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کئے گئے جو اردو کے حروف تہجی سے تک واقف نہیں وہ کیا اردو زبان میں طلبہ کو لکچرس دے پائیں گے۔ ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کے خلاف کام کرتے ہوئے نہ صرف اردو والوں کو دھوکہ دیا بلکہ اردو زبان کو دفن کرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی دھاندلیاں صد فیصد ثابت ہوسکتی ہیں بشرطیکہ مرکزی حکومت غیر جانبدار اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے۔ انہوں نے ایسے کئی تقررات کی مثال پیش کیں جس میں شوہر اور بیوی اور خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے نام پر تقرر کئے گئے غیر اردو داں ٹیچنگ اسٹاف انگریزی میں تعلیم دینے پر مجبور ہیں۔ مختلف سطح پر سفارشات کے ذریعہ یہ تقررات عمل میں لائے گئے۔ ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام ماتحت عہدیدار اعلیٰ حکام سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انہیں کسی بھی سچائی کے افشاء کرنے کی صورت میں معطلی یا برخاستگی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقررات میں کی گئی بے قاعدگیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے یونیورسٹی کو صرف مخصوص کورسیس اور فاصلاتی تعلیم تک محدود کردیا گیا ہے جبکہ کیمپس ایجوکیشن کے بغیر کوئی بھی یونیورسٹی مکمل یونیورسٹی کہلائی نہیں جاسکتی۔