حیدرآباد ۔ 12 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے 24 اردو میڈیم اقامتی اسکولوں اور 5 اردو میڈیم اقامتی جونیر کالجس کو انگریزی میڈیم کے اسکولس اور کالجس میں تبدیل کرنے کے خلاف اردو داں عوام میں برہمی پائی جاتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومتیں اردو سے انصاف کی باتیں کرتی ہیں ۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے بلند بانگ وعدے کئے جاتے ہیں لیکن اردو میڈیم اقامتی اسکولوں اور کالجس کو انگریزی میڈیم میں تبدیل کرنا ، فرقہ پرست ذہنیت کی عکاسی ہے ۔ روزنامہ سیاست کے صفحہ 2 پر 12 جون کی اشاعت میں نمائندہ خصوصی کی اس سلسلہ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے ۔جس پر حرکت میں آتے ہوئے ہیلپ حیدرآباد کے صدر میجر ( ریٹائرڈ ) ایس جی ایم قادری کی قیادت میں ایک وفد نے سکریٹری اے پی ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک یادداشت حوالے کی جس میں سیاست میں شائع رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انگریزی بلا شبہ ایک بین الاقوامی زبان ہے لیکن کئی ممالک میں بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا جس سے مسلمانوں میں ناخواندگی کو ختم کرنے میں مدد مل رہی ہے ۔ یادداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترقی کے نام پر عہدہ دار اس بات کو یقینی بنانے کے خواہاں ہیں کہ غریب مسلمان تعلیم سے محروم رہ جائیں اس وجہ سے اردو میڈیم کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ یادداشت میں اردو اقامتی اسکولوں اور کالجوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔۔