طلبہ کی گھٹتی تعداد پر حکومت کا منفی اقدام ، فروغ اردو کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے ثابت
حیدرآباد۔26جولائی (سیاست نیوز) ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد میں اردو اسکولوں کی تعداد میں بتدریج کمی واقع ہوتی جا رہی ہے اور کہا جار ہا ہے کہ اس کمی کی بنیادی وجہ اردو میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی گھٹتی تعداد ہے جس کے سبب اسکولوں کے انضمام پر محکمہ تعلیم کی توجہ مرکوز ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اردو کے فروغ کے لئے اقدامات کے اعلانات کئے جا رہے ہیں اور یہ کہا جا رہاہے کہ مسابقتی امتحانات کے علاوہ محکمہ جاتی امتحانات کے اردو میں انعقاد کے سلسلہ میں احکامات جاری کئے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر اردو میڈیم اسکولوں کی گھٹتی تعدادکا جائزہ لیا جائے تو آئندہ چند برسوں میں اردو میں امتحان تحریر کرنے والوں کی تعداد بھی ختم ہوتی جارہی ہے اور اس پرکوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں 3برسوں کے دوران 80اسکولوں کے انضمام کی اطلاع ہے کہا جا رہا ہے کہ طلبہ کی تعداد میں گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کے سبب اسکولوں کے انضمام کا فیصلہ کیا جا رہاہے اور طلبہ کی گھٹتی تعداد کی وجوہات کا جائزہ لینے کی اساتذہ کو ہدایت دی جا رہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں اردو میڈیم اسکولوں کی گھٹتی تعداد کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر ماہرین تعلیم نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اقامتی اسکولوں کے آغاز سے اردو میڈیم اسکولو ںمیں داخلوں کے رجحان میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ اردو زبان کے وجود کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ اردو زبان کے وجود کی برقراری کیلئے لازمی ہے کہ کم از کم پرائمری سطح کی تعلیم کو لازی اردو میں فراہم کیا جانا چاہئے اور اس کے بعد اردو کے لازمی مضمون کو رکھا جائے تاکہ اردو کے فروغ اور بقاء کو ممکن بنایا جاسکے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق اردو میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی درکار تعداد نہ ہونے کے سبب اسکولوں کو رہنمایانہ خطوط کے مطابق انضمام کیا جا رہاہے ۔ بتایاجاتاہے کہ ایک اسکول کی عمارت میں 2تا3 اسکولوں کو رکھنے کے سبب بھی کئی مسائل پید اہورہے ہیں جس کے سبب طلبہ بھی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے اقلیتی اقامتی اسکولوں میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اگر اردو کو اختیاری کے بجائے لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے تو اردو زبان کے فروغ میں یہ عمل معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے ساتھ اس زبان کو نہ صرف اقلیتی اقامتی اسکولوںمیں لازمی زبان کے طور پر پڑھائے بلکہ دیگر طبقات کیلئے چلائے جانے والے اسکولوں میں بھی اردو کو متعارف کروایاجائے اسی طرح انگریزی و تلگو میڈیم کے اسکولوں میں بھی اردو زبان کے ایک مضمون کو شامل کیاجائے تاکہ اردو زبان کسی مخصوص طبقہ کی زبان نہ رہے بلکہ اس زبان کو دیگر زبانوں کی طرح ترقی حاصل ہوسکے اور ہر کوئی اس زبان سے واقف ہونے لگ جائے تو اردو کی دیگر زبانوں کی طرح ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔