اردو قومی یکجہتی اور بین الاقوامی ہم آہنگی کی زبان

محفل خواتین کا اجلاس ، پروفیسر جمیل النساء کا خطاب
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی : ( پریس نوٹ ) : محفل خواتین ، تہذیبی ، سماجی اور ادبی اقدار کو فروغ دے رہی ہے ۔ خاتون قلم کاروں کی یہ محفل ادبی ذوق کو پروان چڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر جمیل النساء محفل کے ماہانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا ۔ جو 14 جولائی کو اردو ہال میں منعقد ہوا ۔ انہوں نے اردو کے فروغ کے لیے محفل کی کوششوں کو ثمر آور قرار دیا اور کہا کہ اردو قومی یکجہتی اور بین الاقوامی ہم آہنگی کی زبان ہے ۔ پروفیسر جمیل النساء جو مختلف فلاحی کاموں میں مصروف رہتی ہیں ۔ مزید کہا کہ نئی نسل کو اردو کی جانب راغب کرنے کے لیے محفل میں ان کی شرکت کو یقینی بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا اردو داں افراد انگریزی ہندی اور تلگو ادب سے اور دیگر زبان والوں کا اردو سے واقف ہونا ضروری ہے ۔ اس طرح سے سبھی ایک دوسرے کے ادب سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔ مہمان خصوصی پروفیسر وملا نے کہا اس محفل میں آکر مجھے اپنائیت کا احساس ہورہا ہے ۔ اردو زبان شیریں زبان ہے ۔ انہوں نے محفل میں پیش کی گئی شعری و نثری تخلیقات کو بے حد سراہا ۔ نئی نسل کو آگے آنے اور کارہائے نمایاں انجام دینے کا مشورہ دیا ۔ دوسری مہمان خصوصی شبینہ فرشوری نے تمام تخلیقات کا احاطہ کیا اور مفید مشورے دئیے ۔ مہمانوں کا خیر مقدم محترمہ نسیمہ تراب الحسن ، محترمہ انیس عائشہ اور ثریا جبین نے کیا ۔ ادبی اجلاس میں محترمہ رفیعہ چاند نے اپنا مضمون ’ دل کی لگی ‘ اور آمنہ سحر نے ’ اگلے جنم موہے کتیا کیجو ‘ پیش کئے ۔ ادبی اجلاس کی کارروائی محترمہ تسنیم جوہر نے انجام دی ۔ بعد ازاں ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی کی نظامت سے مشاعرے کا آغاز ہوا ۔ اس شعری نشست میں مظفر النساء ناز ، تسنیم جوہر ، آمنہ سحر ، سنیتا للا ، ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی ، صبیحہ تبسم ، کمود بالا ، تجمل تاج اور پروفیسر وملا نے اپنا کلام پیش کیا ۔ اس موقع پر اردو کے علمی ادبی و ثقافتی سہ ماہی رسالہ ریختہ نامہ کی رسم اجراء پروفیسر حبیب ضیا کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔ ڈاکٹر نکہت آراء شاہین کے شکریہ پر محفل اختتام کو پہنچی ۔۔