اردو شاعر کرشنا سوامی سکندرآبادی عالمی قائدین سے روابط میں سب سے آگے

’’حیدرآبادی تہذیب اور اردو میری نس نس میں‘‘ 84 سالہ انجینئر کا اظہارخیال

ِحیدرآباد ۔ 23 اگست ۔ ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں کئی ایسی شخصیتیں ہیں جن کی غیرمعمولی صلاحیتوں کے باعث نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حیدرآبادیوں کی سب سے اہم خوبی یہ ہیکہ انہیں محبت کی زبان اردو (میٹھی بولی) نے ایک ڈور میں باندھ رکھا ہے۔ موتیوں کے شہر کے گنگاجمنی تہذیب کے مالے میں پروئے گئے موتیوں میں کرشنا سوامی سکندرآبادی بھی شامل ہیں جو کوئی عام آدمی نہیں اگرچہ ہندوستانی ارکان پارلیمنٹ ان سے واقف نہیں لیکن امریکی سینٹ کے ارکان اور کناڈا کے قانون ساز اس حیدرآبادی انجینئر، آرکیٹکٹ اور انگریزی و اردو کے شاعر سے اچھی طرح واقف ہیں۔ پرانا شہر کے مشہور و معروف مفیدالانام اردو ہائی اسکول سے اسکولی تعلیم عثمانیہ یونیورسٹی سے ڈپلومہ ان سیول انجینئرنگ اور پی آرچ کے علاوہ اے آئی آئی اے اور MCA کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنے والے 84 سالہ کرشنا سوامی سکندرآبادی دنیا بھر میں سربراہان مملکت، امریکی صدور، وزرائے اعظم اور سفارتکاروں سے قلمی دوستی ومراسلت کے علاوہ منظوم خراج تحسین و خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور کناڈا کی دستوری قرارداد کو تانبے کی لوح پر کندہ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور ان کے ان کارناموں پر وہاں کے قانون سازوں کو حیرت ہے۔ حیدرآبادی تہذیب میں رنگے ہوئے کرشنا سوامی سکندرآبادی (سکندرآبادی ان کا تخلص ہے) نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ان کے والد حضور نظام کے دور میں وزیرمالیہ کے باوقار عہدہ پر فائز رہے۔ راجہ دھوم کرن کے پاس ملازمت کیا کرتے تھے۔ تعلیم کے بعد میونسپل کارپوریشن حیدرآباد میں سیکشن آفیسر کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوگیا۔ بعدازاں سی پی ڈبلیو ڈی دہلی میں چیف پلاننگ آفیسر کی حیثیت سے ان کا تقرر عمل میں آیا لیکن ملازمت کو خیرباد کہتے ہوئے وہ حیدرآباد واپس ہوگئے اور آرکیٹکٹ کی حیثیت سے کام شروع کردیا۔ کرشنا سوامی سکندرآباد کو ہمارے ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ سروے پلی رادھا کرشنا، فخرالدین علی احمد، نیلم سنجیواریڈی، گیانی ذیل سنگھ، شنکر دیال شرما، کے آر نارائن، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے نہ صرف ملاقات کا شرف حاصل ہے بلکہ انہیں ان شخصیتوں کو منظوم خراج پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ایک مرتبہ سابق صدرجمہوریہ گیانی ذیل سنگھ سے ملاقات کے دوران انہوں نے کرشنا سوامی سے دریافت کیا کہ آپ اتنی اچھی اردو کیسے جانتے ہیں اور اردو میں شاعری بھی کرلیتے ہیں۔ اس سوال پر کرشنا سوامی نے جو جواب دیا اردو اور حیدرآبادی تہذیب سے ان کی محبت اور اٹوٹ وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔ کرشنا سوامی سکندرآبادی نے جواب میں کہا تھا : صدر محترم میں حیدرآبادی ہوں اور اردو میری نس نس میں بسی ہوئی ہے۔ اردو میں وہ مٹھاس ہے کہ ہر کوئی اس کا دلدادہ ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ کرشنا سوامی 9 لڑکے اور تین بیٹوں یعنی 12 بچوں کے باپ ہیں (ان میں تین لڑکوں کا انتقال ہوچکا ہے) انہیں 6 امریکی صدور سے ملاقات کا موقع ملا ہے اور ان کی ستائش مکتوب بھی ان کے ہاں موجود ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہیکہ امریکہ کے 34 ویں صدر آنجہانی IKE EISENHOWER جب اس عہدہ پر فائز ہوئے تھے تب ان کا بڑا لڑکا پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے اس کا نام آئیک سوامی رکھ دیا۔ اس لڑکے نے انجینئرنگ کی اور ماہر آرکیٹکٹ بھی ہے۔ 6 سال امریکہ میں رہ کر واپس ہوا ہے۔ دوسرا لڑکا سدرشن بھی انجینئر ہے۔ انہوں نے جاپانی قائد سوٹو کے نام پر اپنے تیسرے فرزند کا نام سوٹو سوامی رکھا ہے۔ چوتھے فرزند اور سوامی امریکی شہری ہیں اور پائلٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پانچوے فرزند نارائن سوامی کینیڈا کے شہری ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک بیٹی کا نام خلاء میں داخل ہونے والی پہلی روسی خاتون ویلنٹائن ٹریسکوا کے نام پر ڈی وی ٹریسکوا رکھا ہے۔ کرشنا سوامی کے دو داماد ڈاکٹرس اور ایک بنک آفیسر ہیں۔ تقریباً 11 کتابوں کے مصنف اس شخصیت کو قدیم سکوں، ڈاک ٹکٹس اور مضامین جمع کرنے کا بے انتہاء شوق ہے۔ وہ تقریباً 45 برسوں سے روزنامہ سیاست کا مطالعہ کررہے ہیں۔ ان کے کئی مضامین انگریزی اور اردو اخبارات خاص کر سیاست میں شائع ہوچکے ہیں۔ وہ مشاعروں میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہیکہ روسی اور چین کو چھوڑ کر انہوں نے دنیا کے بیشتر ممالک کا سفر کرلیا ہے۔ اب برطانیہ، امریکہ اور کناڈا کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں جہاں وہ آئی بی سی کانفرنس میں خاص طور پر شرکت کریں گے۔ 8 تا 10 ستمبر نپلوانیہ میں منعقد شدنی کنونشن و کانفرنس میں انہیں تہنیت پیش کی جانے والی ہے۔ امریکہ میں مسٹر کرشنا سوامی سکندرآبادی کا مکان بھی ہے۔ وہ برطانیہ امریکہ سے کناڈا جائیں گے اور تانبہ کی لوح پر کندہ دستور کی قرارداد وہاں کی پارلیمنٹ کو پیش کریں گے۔ اس لوح کا سائز 5×8 فٹ ہے۔ پنسلوانیہ بات یہ ہیکہ اس حیدرآبادی نے اقوام متحدہ کیلئے 5-1/2 x 8-1/2 فٹ حجم کی ایک لوح تیار کی ہے جس پر اس کا دستور کندہ کیا گیا ہے۔ پنسلوالیہ کے پارلیمنٹ ہاؤز میں انہیں تہنیت پیش کی جاچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی دستور کی قرارداد جو 4 جولائی 1776 کو بکری کے چمڑے پر تحریر کی گئی تھی بوسیدہ ہورہی ہے اسے میں انہوں نے اسے تانبہ کی لوح پر کندہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرشنا سوامی کے خیال میں وہ دنیا کا سفر کرچکے ہیں لیکن حیدرآبادی تہذیب یہاں کے لوگوں کی محبت، مروت، مہمان نوازی، انسانیت دوستی، جذبہ ہمدردی انہوں نے کہیں نہیں دیکھا۔ اسی لئے وہ جہاں بھی جاتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ حیدرآبادی تہذیب کا جواب نہیں۔ mriyaz2002@yahoo.com