اردو آفیسرس کیلئے ایک ہفتہ طویل اقلیتی پروگرام کا آغاز

اردو درخواستوں کی یکسوئی میںاہم رول ادا کرنے کا مشورہ، اے کے خاں ، شاہنواز قاسم اور ایس اے شکور کا خطاب
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے اردو آفیسرس کے لئے ڈاکٹر ایم چنا ریڈی انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ میں ایک ہفتہ طویل ٹریننگ کا آغاز ہوا۔ اس ٹریننگ کا مقصد اردو آفیسرس کو ان کے فرائض سے واقف کرانا اور مختلف محکمہ جات میں اردو درخواستوں کے ترجمہ کے ساتھ حکام تک رسائی کی تربیت دینا ہے۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم نے افتتاحی پروگرام سے خطاب کیا۔ اے کے خاں نے کہا کہ ٹریننگ کے حصول کے بعد اردو آفیسرس کی کارکردگی میں بہتری پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے پہلی مرتبہ محکمہ اقلیتی بہبود میں 66 اردو آفیسرس کے تقررات کو منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو آفیسرس کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے عمل آوری میں اہم رول ادا کریں۔ اے کے خاں نے کہا کہ ہر محکمہ میں کام کی نوعیت مختلف ہوتی ہے ۔ چیف منسٹر کا دفتر ، اسمبلی ، کونسل ، وزراء کے دفاتر اور ضلع کلکٹریٹس میں فرائض انجام دینے والے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ درکار قابلیت اور صلاحیتوں کے حصول کے لئے ٹریننگ سے استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن ماہرین کے لکچرس کا اہتمام کیا جائے گا ، ان کے تجربات کی روشنی میں بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ اے کے خاں نے کہا کہ اردو اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کو حکومت کے علم میں لانا اور ان کی یکسوئی کی راہ ہموار کرنا عہدیداروں کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی درخواستیں اردو زبان میں موصول ہوتی ہیں، ان کا ترجمہ کرتے ہوئے وزراء اور کلکٹرس کو پیش کریں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم نے اردو آفیسرس سے کہا کہ وہ ترجمہ کے سلسلہ میں گوگل پر انحصار نہ کریں کیونکہ گوگل ٹرانسلیشن اکثر و بیشتر غلط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرائض کی انجام دہی میں ٹکنالوجی کے استعمال سے فائدہ ضرور ہے لیکن اردو آفیسرس کو اس پر انحصار کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ شاہنواز قاسم نے کہا کہ بہتر کارکردگی کے ذریعہ عہدیدار نہ صرف اپنی بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود کی نیک نامی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ اردو آفیسرس کو ایک ہفتہ کی ٹریننگ دی جائے گی اور روزانہ تین تا پانچ سیشن رہیں گے۔ مختلف شعبوں سے وابستہ اہم شخصیتوں کو لکچرس کیلئے مدعو کیا گیا ہے جن میں آئی اے ایس عہدیدار ، پروفیسرس اور میڈیا سے وابستہ شخصیتیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریشنس کے علاوہ ترجمہ ، آر ٹی آئی ، میڈیا ، سوشیل میڈیا اور دیگر شعبہ جات کے ماہرین لکچر دیں گے ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ ٹریننگ کے آخری دو دن امیدواروں کو محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف دفاتر کا معائنہ کرایا جائے گا۔ تاکہ وہ محکمہ کی کارکردگی اور اسکیمات سے واقفیت حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سرویس رول ، جاب چارٹ اور انتظامی امور پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو آفیسرس کا جن دفاتر میں تقرر کیا گیا ، ہر جگہ کام کی نوعیت مختلف ہے۔ یہ عہدہ سپرنٹنڈنٹ درجہ کا ہے لہذا انہیں آفس کے کاموں کی تکمیل میں سپرنٹنڈنٹ کے رول کی بھی ٹریننگ دی جائے گی ۔ انہوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پہلی مرتبہ 66 اردو آفیسرس کے تقررات کو منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دوسرے مرحلہ میں مزید تقررات کے حق میں ہے، اگر موجودہ اردو آفیسرس بہتر خدمات انجام دیں تو حکومت مزید عہدیداروں کا تقرر کرسکتی ہے ۔