نئی دہلی ۔ 26 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں آج ادویات کی قیمتوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 108۔ادویات پر حکومت کا کنٹرول اٹھائے جانے کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی جس کے باعث مریضوں کیلئے ناگزیر بالخصوص ٹی بی (تپ دق) ایڈس اور ذیابیطس کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ۔ اس مسئلہ پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے جواب دینے کا مطالبہ کیا ۔ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے سی پی ایم رکن پی راجیو نے کہا کہ ادویات مایحتاج کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے ایک عام آدمی پریشان ہے جبکہ یہ ادویات ٹی بی ، ایڈس، شوگر اور دیگر امراض کے علاج کیلئے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کینسر کی روک تھام کی دوا Glivec کی قیمت 8,500 روپئے سے 1,08 لاکھ روپئے اور بلند فشار خون (بی پی) اور امراض قلب کے علاج کی دوا Plavix کی قیمت 147 روپئے سے 1,615 روپئے کتا کاٹنے پر علاج کا انجکشن (Anti Rabies) اور (Kamrab) کی قیمت 2,670 روپئے سے 7000 روپئے تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا نیشنل فارماسٹیکل پرائسنگ اتھاریٹی کو حکومت کی جانب سے یہ ہدایت دینے پر کہ ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول ہٹادینے کیلئے مئی 2014 ء کے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط پر دستبرداری اختیار کی جائے ۔ ادویات کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔