احمد کالونی محمدی لائن میں کھلے نالے موت کے کنویں بن سکتے ہیں

بلدیہ اور عوامی نمائندے بالکل خاموش ، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : شہری ترقیاتی امور کے مد میں ہر سال کروڑوں روپئے خرچ ہونے کے دعوے کے باوجود شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں آج بھی ایسے سینکڑوں بڑے بڑے نالے موجود ہیں جو عام شہریوں اور ان کے معصوم بچوں کے لیے موت کے کنویں بنے ہوئے ہیں ۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ بڑے بڑے نالے عرصہ دراز سے کھلے ہوئے ہیں اور مقامی آبادی کی جانب سے بار بار شکایت کے باوجود ان نالوں پر سلاب نہیں ڈالا جاتا ۔ یہ نالے جس میں قرب و جوار کے چھوٹے نالوں کے گندے پانی بہتے ہیں ۔ مکمل طور پر کھلا ہونے کی وجہ سے گندگی ، بدبو اور تعفن پھیلانے کا سب سے اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں ۔ ان نالوں کی وجہ سے نہ صرف بدبو پھیل رہی ہے بلکہ مچھروں کی افزائش ہوتی رہتی ہے اور مقامی آبادی ان مچھروں کا شکار ہوتی رہتی ہے ۔ ایسے ہی کھلے نالوں میں سے ایک بڑا اور کھلا نالہ گولکنڈہ کے قریب محمدی لائنس سکنڈ لانسر میں واقع احمد کالونی کا کھلا نالہ ہے جو تقریبا 20 فٹ چوڑا ہے ۔ نالہ اس قدر چوڑا ہونے کے باعث یہاں پر راستہ بالکل تنگ اور انتہائی دشوار ہے جس کے نتیجے میں نہ کوئی گاڑی کی آمد و رفت ہوسکتی ہے اور نہ ہی میت وغیرہ کو بآسانی نکالا جاسکتا ہے ۔ مقامی آبادی کے مطابق اگر اس نالے پر سلاب ڈال دیا جائے تو یہ آنے جانے والوں کے لیے ایک سڑک کے طور پر بھی کام کرے گا اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے تعفن اور مچھروں سے بھی لوگوں کو نجات ملے گی ۔ مقامی عوام نے نمائندہ سیاست سے شکایت کرتے ہوئے عوامی نمائندوں اور بلدیہ پر اپنی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ عرصہ دراز سے ہم اس بدبو اور تعفن کو برداشت کررہے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جلد سے جلد اس نالے پر سلاب ڈال کر مقامی عوام کو ہونے والی پریشانیوں سے نجات دلائیں ۔۔