اجمیر میں حیدرآبادی رباط کی تقریب سنگ بنیاد ملتوی

شیوسینا کے احتجاج پرکے سی آر کا دورہ منسوخ، حکومت راجستھان بھی دورہ کے حق میں نہیں، خصوصی ٹرین کے ٹی آر ایس قائدین مایوس
حیدرآباد۔/22 جون، ( سیاست نیوز) راجستھان میں حیدرآبادی رباط کی سنگ بنیاد تقریب آخر کار ملتوی ہوچکی ہے۔ شیوسینا اور بعض مقامی تنظیموں کی جانب سے رباط کی تعمیر کی مخالفت اور احتجاج کی دھمکی کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 27 جون کے پروگرام کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پروگرام راجستھان حکومت کی منظوری کے بعد آئندہ ماہ کسی وقت منعقد ہوگا۔ روز نامہ ’سیاست‘ نے شیوسینا کے احتجاج اور رباط کی مخالفت سے متعلق رپورٹ شائع کی تھی جس کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود اور حکومت کے حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی۔ بعد میں چیف منسٹر نے اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کے بعد صورتحال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے پروگرام ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ چیف منسٹر اندرون 2 ماہ کسی وقت پر دورہ کا منصوبہ رکھتے ہیں لیکن راجستھان میں انتخابی ماحول کو دیکھتے ہوئے رباط کی تعمیر کا آغاز ممکن دکھائی نہیں دے رہا ہے۔واضح رہے کہ تقریب سنگ بنیاد کے سلسلہ میں تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے تھے۔ حکومت راجستھان سے تلنگانہ حکومت نے 2 کروڑ 40 لاکھ میں ایک اراضی حاصل کی تھی جس کا رجسٹریشن بھی مکمل ہوچکا ہے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین کو خصوصی ٹرین سے اجمیر لے جانے کا منصوبہ تھا۔ 1600 قائدین پر مشتمل ٹرین 24 جون کی شام روانہ ہونے والی تھی۔ قائدین کی فہرست اور اُن کے انتظامات بھی مکمل ہوگئے۔ اقلیتی بہبود عہدیداروں کی دو ٹیمیں اجمیر میں انتظامات میں مصروف ہیں۔ چیف منسٹر 27 جون کو خصوصی طیارہ سے روانگی کا منصوبہ رکھتے تھے تاکہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے سلسلہ میں بارگاہ غریب نواز ؒ میں مَنت کی تکمیل کے بعد رباط کا سنگ بنیاد رکھیں۔

اسی دوران گزشتہ دو دن سے اجمیر میں شیو سینا اور بعض مقامی تنظیموں کی جانب سے تلنگانہ حکومت کو اراضی الاٹ کرنے کی مخالفت شروع کی گئی۔ اجمیر کے ضلع کلکٹر کو اس سلسلہ میں یادداشت پیش کرتے ہوئے انتباہ دیا گیا کہ اگر 27جون کو تقریب منعقد ہوتی ہے تو رکاوٹ پیدا کی جائے گی۔ راجستھان کے میڈیا میں احتجاج کے خبروں کی اشاعت کے بعد چیف منسٹر نے انٹلیجنس اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ راجستھان پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کی گئی جس پر انہوں نے مشورہ دیا کہ فی الوقت پروگرام کو ملتوی کیا جائے کیونکہ معمولی احتجاج بھی چیف منسٹر کے شایان شان نہیں ہے۔ اجمیر میں 1600 اقلیتی قائدین کی سیکورٹی اور خصوصی ٹرین کے بلارکاوٹ سفر کو جاری رکھنے پر بھی کئی سوال کھڑے کئے گئے۔ بعض عہدیداروں نے تجویز پیش کی کہ خصوصی ٹرین کو منسوخ کرتے ہوئے چیف منسٹر چند اہم شخصیتوں کے ساتھ اجمیر کا دورہ کریں اور سنگ بنیاد کی رسم انجام دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اس تجویز کو بھی یہ کہتے ہوئے قبول نہیں کیا کہ وہ وعدہ کے مطابق پارٹی قائدین کے ہمراہ بارگاہ غریب نواز ؒ میں حاضری دینا چاہتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سیکورٹی کلیرنس کے سلسلہ میں راجستھان حکومت کے غیر واضح موقف کو دیکھتے ہوئے لمحہ آخر میں پروگرام ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ تاریخ طئے کرنے سے قبل راجستھان حکومت سے مشاورت کی جائے گی۔ پروگرام کے التواء کے ساتھ ہی ٹی آر ایس حلقوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین میں اجمیر روانگی کے سلسلہ میں زبردست جوش و خروش تھا۔ مقررہ تعداد کے مکمل ہونے کے باوجود ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کے ذریعہ سفارشی ناموں کی فہرست ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو موصول ہوگئی تھی۔ 2000 سے زائد افراد کے ناموں میں تقریباً 1600 کو 22 بوگیوں میں جگہ فراہم کرنی تھی۔ ابتداء میں 4 ایر کنڈیشنڈ کوچ بھی شامل کرنے کا منصوبہ تھا لیکن ایر کنڈیشنڈ میں سفر کرنے کیلئے قائدین میں مسابقت کے اندیشہ کے تحت ایر کنڈیشنڈ کوچس کے منصوبہ سے دستبرداری اختیارکرلی گئی۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے پروگرام کے التواء کی توثیق کی اور کہا کہ راجستھان کے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ اندرون دو ماہ دوبارہ یہ پروگرام طئے کیا جائے گا۔ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو خراب ہونے سے بچانے کیلئے التواء کا فیصلہ کیا گیا ۔