اترپردیش میں پولیس پر حملوں کے واقعات ایوان اسمبلی سے اپوزیشن کا واک آؤٹ

لکھنو ۔ 9 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اسمبلی میں اپوزیشن بی ایس پی اور بی جے پی نے آج ریاست میں پولیس ملازمین پر حملوں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے احتجاج کیا اور یہ الزام عائد کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا کہ حملہ آواروں کو حکمراں سماج وادی پارٹی کی سرپرستی حاصل ہے ۔ تاہم حکومت نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ ریاست بھر میں ما رچ 2012 ء سے ستمبر 2014 ء کے دوران پولیس ملازمین کے خلاف حملوں پر بی جے پی کے سریش کمار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور اعظم خاں نے کہا کہ مذکورہ مدت کے دوران اس طرح کے 622 واقعات پیش آئے ہیں اور ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں اور 3,936 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے۔ ایک اور سوال کرتے ہوئے ایس کے کھنہ سے دریافت کیا کہ ان حملوں میں سماج وادی پارٹی کے کتنے کارکن ملوث ہیں اور حیرت کا اظہار کیا کہ اگر پولیس ملازمین محفوظ نہیں ہیں تو وہ عوام بالخصوص خواتین کی حفاطت کس طرح کریں گے۔ تاہم اپوزیشن لیڈر سوامی پرساد نے یہ دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں تقریباً پولیس اہلکاروں کی مدت ہوگی ۔ بعد ازاں انہوں نے بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کردیا جبکہ اعظم خاں نے بتایا کہ مجرموں کے ساتھ پولیس کا رویہ سخت ہے اور کسی بھی گوشہ سے ان کی سرپرستی نہیں کی جارہی ہے ۔ پ ولیس فورس کو سیاسی رنگ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے مسٹر کھنہ جو کہ بی جے پی مقننہ پارٹی لیلار ہیں یہ دعویٰ کیا کہ حملوں کے واقعات میں سب سے زیادہ حکمراں جماعت کے کارکن ملوث ہیں اور ایوان سے واک آؤٹ کردیا جس پر ریاستی وزیر محمد اعظم خاں نے کہا کہ یہ بہتر ہوتا کہ اپوزیشن جماعتیں واک آؤٹ کرنے کی بجائے متوفی پولیس ملازمین کے پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کرے گی۔