اقوام متحدہ ۔ 7 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ سکریٹری جنرل بان کی مون جو اپنے جلیل القدر عہدہ سے آئندہ سال سبکدوش ہوجائیں گے، انہوں نے ایک انتہائی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ اقوام متحدہ جیسی عالمی مجلس کی قیادت کوئی خاتون سنبھالے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ بان کی مون نے ماضی میں بھی کئی موقعوں پر یہ بات کہی ہے اور ہمیشہ اس کی تائید کرتے رہے کہ سکریٹری جنرل کے عہدہ پر اب کسی خاتون کو فائز ہونا چاہئے۔ یاد رہے کہ بان کی مون کے نائب ترجمان فرحان حق کل اخباری رپورٹرس سے بات کررہے تھے، جہاں ان سے بان کی مون کے بارے میں سوالات کئے گئے تھے کہ آیا وہ کسی خاتون کو قیادت سونپنے کی تائید کرتے ہیں تاکہ خاتون بھی 70 سالہ قدیم عالمی مجلس کی قیادت کرسکے۔
مسٹر حق نے کہا کہ بان کی مون خاتون سکریٹری جنرل کی تائید ضرور کرتے ہیں لیکن ان کا جانشین کون ہوگا، اس کے بارے میں فیصلہ کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مسٹر حق نے کہا کہ سیاسی میدان چاہے وہ قومی ہو یا بین الاقوامی، بان کی مون کی ایسی متعدد خواتین سے ملاقات ہوتی رہتی ہے جو بہترین عہدوں پر فائز ہے لیکن یہ اختیار بان کی مون کو حاصل نہیں ہے کہ وہ ان خواتین میں سے کسی کو یہ کہیں کہ آئیے ! اقوام متحدہ کی سکریٹری جنرل بن جائے۔ مسٹر مون نے جنوری 2007ء میں اس جلیل القدر عہدہ کا جائزہ حاصل کیا تھا تاہم جون 2011ء میں اتفاق رائے سے ان کا دوبارہ انتخاب عمل میں آیا تھا اور اس طرح اب وہ اس عہدہ پر ڈسمبر 2016ء تک فائز رہیں گے۔
ہندوستان نے بھی کئی موقعوں پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے عہدہ پر کسی خاتون کی تقرری کی وکالت کی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا ایک بار پھر ضروری ہیکہ دنیا کے بعض ممالک اقوام متحدہ جیسی جلیل القدر عالمی مجلس کو امریکہ کی پٹھو سمجھتی ہے جو صرف امریکہ کے اشارے پر کام کرتی ہے جہاں دیگر چھوٹے اور غریب ممالک کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ کئی اہم قراردادوں کو امریکہ کے ذریعہ ویٹو کردیا جاتا ہے اس طرح یہ شکایت پیدا ہونا فطری ہیکہ اقوام متحدہ مؤثر طور پر اپنی خدمات انجام نہیں دے رہا ہے۔ دوسری طرف سلامتی کونسل کی رکنیت کیلئے بھی دنیا کے بڑے بڑے ممالک کو کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔