ائمہ و موذنین کے ابتر حالات زندگی پر امت کی توجہ ضروری

اللہ کے گھر کی خدمت کرنے والوں کے مشاہرہ میں اضافہ ناگزیر، منبر و محراب فاؤنڈیشن کے ذمہ داروں کا بیان
حیدرآباد۔17مارچ(سیاست نیوز) اللہ کے گھروں کی خدمت اور امت مسلمہ کی امامت کرنے والوں کی تنخواہیں ان کی ضـروریات کو پورا کر رہی ہیں!اگر نہیں کررہی ہیں تو اس کے لئے ذمہ دارکون ہیں اور ان کی ضروریات کی تکمیل کیلئے اقدامات کس کی ذمہ داری ہے!مساجد اللہ کے گھر ہیں اور ان میں خدمت انجام دینے والوں کا مقام و مرتبہ سب سے بلند ہے کیونکہ امام و مؤذن ایسے خادم ہیں جو بندوں کی نماز کے لئے خدمت انجام دیتے ہیں لیکن امت کا یہ المیہ ہے کہ ان اہم ترین عہدوں پر فائز اشخاص کی ضروریات زندگی پوری نہیں ہوتی جبکہ دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔پنج وقتہ نماز اور مساجد کی دیکھ ریکھ کرنے والے ذمہ داروں کو جو مشاہرہ ایصال کیا جاتا ہے وہ ان کی خدمات سے کافی کم ہے اس بات کا سب کو اعتراف ہے لیکن اس میں اضافہ کے سلسلہ میںکسی بھی جانب سے کوئی پہل نہیں کی جاتی جو کہ ان اہم شخصیتوں سے امت کی بے اعتنائی کا ثبوت دے رہی ہے۔منبر و محراب فاؤنڈیشن کے مطابق 80 فیصد مساجد میں خدمات انجام دینے والے خطیب‘ امام اور مؤذنین کی تنخواہیں برسوں سے جمود کا شکار ہیں اور ان میں اضافہ کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے بلکہ رجوع الی اللہ کرنے والی ان اہم شخصیتوں کے حالات زندگی سے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جانے لگا ہے جبکہ امت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم از کم اپنے محلہ کی مسجد کے امام و مؤذن کی ضروریات زندگی کے متعلق فکر کرے اور ان کے بچوں کی بھی اعلی و معیاری تعلیم کے انتظام کو یقینی بنائیں کیونکہ مساجد سے حاصل ہونے والے مشاہرہ میں وہ ایک معیاری زندگی بسر نہیں کرسکتے تو اس بات کی کیسے توقع کی جائے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر بناپائیں گے!منبر و محراب فاؤنڈیشن انڈیا کے ذمہ داروں میں مولانا سید جمال الرحمن مفتاحی‘ مولانا احمد عبید الرحمن اطہر ندوی اور مولانا غیاث احمد رشادی شامل ہیں۔مولانا غیاث احمد رشادی نے امت مسلمہ کے ہر فردسے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقہ کی مساجد کے مؤذنین و ائمہ کی ضروریات زندگی کی تکمیل پر توجہ مبذول کریں تاکہ وہ بھی سماج کے دیگر افراد کی طرح بہتر زندگی گذارنے کے اہل بن سکیں کیونکہ اللہ نے انہیں جو منصب و مرتبہ عطا کیا ہے ہم اس کی بھی قدر کرنے والے بن جائیں۔