علیگڑھ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اتر پردیش ریاستی اقلیتی کمیشن نے آگرہ میں مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر مذہبی تبدیلی کو دھوکہ دہی کا عمل اور ایک دکھاوے سے تعبیر کیا جس کا حقیقی معنوں میں مذہب تبدیل کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ چار رکنی کمیشن نے کل آگرہ کا دورہ کیا تھا۔ کمیشن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آگرہ میں مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر جو مذہب تبدیل کرایا گیا وہ صرف ایک دھوکہ دہی اور دکھاوا ہے ۔ اس کا اعتقادی تبدیلی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ کمیشن نے آگرہ کے ہندو مکینوں اور ضلع انتظامیہ کے رول کی ستائش کی۔ کمیشن نے کہا کہ ہمیں یہ کہنے میں پس و پیش نہیں کہ نام نہاد تبدیلی مذہب کا جو پروگرام وید نگر کے مقام پر منعقد ہوا، اس پروگرام میں کسی بھی مقامی ہندو نے حصہ نہیں لیا۔ اس کے برعکس انہوں نے دور اندیشی اور
انسانی اقدار کا مظاہرہ کیا اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو صورتحال بدترین شکل اختیار کرجاتی۔ کمیشن کے ارکان مفتی ذوالفقار علی ، شفیع اعظمی، سہیل ایوب جنجری اور نفیس الحسن نے آگرہ میں والمیکی فرقہ اور ہندو طبقہ سے تعلق رکھنے والے مذہبی قائدین کے رول کی بھی ستائش کی۔ کمیشن نے کہا کہ انہوں نے آگرہ میں ہندو فرقہ کے سرکردہ ارکان سے بات کی اور یہ حقیقت واضح ہوئی کہ انہوں نے اس طرح کی مذہبی تبدیلی کو قبول نہیں کیا ہے ۔ ان سب کا یہ احساس تھا کہ دھوکہ دہی کے ذریعہ اس طرح کی مذہبی تبدیلی ہندو فرقہ کے مفاد میں نہیں ۔کمیشن کے ارکان نے ایک مخصوص تنظیم کے چھوٹے سے گروپ کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے علیگڑھ ضلع انتظامیہ کی کوششوں کی بھی ستائش کی۔ یہ تنظیم 25ڈسمبر کو علیگڑھ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ کمیشن کے رکن ذوالفقار علی نے واضح کیا کہ انہیں یہ کہتے ہوئے کوئی پس و پیش نہیں کہ اٹل بہاری واجپائی زیر قیادت پہلی این ڈی اے حکومت میں اقلیتیں خود کو کافی محفوظ تصور کررہی تھی لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ موجودہ بی جے پی حکومت میں یہ احساس تحفظ تیزی سے ختم ہوتا جارہا ہے ۔ کمیشن کی مکمل رپورٹ وسط جنوری میں جاری کی جائے گی۔